خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 935
خطبات طاہر جلد 16 935 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء رہا ہے اور جس کو وہ جنت پاتا ہے اس سے گھبرا گھبرا کر وہ اپنے قید خانے کی طرف چلا جاتا ہے کیونکہ اس کی جنت وہاں ہوتی ہے۔پس یہ بظاہر ایک متضاد بات ہے مگر وہ حدیث جس کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں حقیت میں یہی مضمون ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی جنت میں چلے جاؤ۔الدنيا سجن للمؤمن میں یہ نصیحت ہے کہ وہ بجن تو ہے مگر مومن کے لئے وہی ہے۔مومن خود چاہتا ہے اس پر کوئی جبر نہیں ہے وہ سجن اس سے چھوڑ انہیں جاتا۔بھاگ بھاگ کر قید خانوں میں مبتلا ہوتا ہے۔پس آج کے ایام میں جو رمضان کے قریب ہیں اس پر یہ حدیث اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ اطلاق پائے گی کہ رمضان مبارک کی قید جو بظا ہر قید ہے اس میں آپ باہر نکل کر دیکھیں گے تو دنیا طرح طرح کے عیش و عشرت میں مبتلا ہوگی اور پارکوں میں گند ہوگا، گلیوں میں گند ہوگا جہاں سے آپ گزریں گے نظر اٹھانا مشکل ہوگی اور آپ نے خدا کی خاطر ایک قید قبول کی ہوگی۔یہی قید ہے جو دراصل جنت ہے اور وہ جنت جو انہوں نے بنائی ہوئی ہے وہ جہنم ہے۔اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں تو آپ کا رمضان نسبتاً زیادہ آسانی اور سہولت سے گزرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اب نہایت ہی پیارے الفاظ میں تقویٰ کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ تقومی ہی نماز کی جان ہے اور تقوی نماز کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہے اور ایسا گہرا تعلق ہے کہ نماز تقویٰ میں جان ڈالتی ہے، تقوی نماز میں جان ڈالتا ہے۔فرمایا: کل یعنی 22 جون 1899 ء بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔“ 22 جون 1899 ء بار بار یہ الہام ہوا ہے۔اب تھوڑا عرصہ رہ گیا ہے اس صدی کے گزرنے میں اور اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام بار بار ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اگلی صدی کا گیٹ ہونا چاہئے۔دنیا میں بھی بہت گیٹ سجائے جائیں گے جن سے گزر کر وہ اگلی صدی میں داخل ہو رہے ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ گیٹ عطا کیا گیا ہے جو تقویٰ کا گیٹ ہے اور جون 1899 ء کا الہام ہے۔پس بلاشبہ ہمارے لئے بھی آج یہی الہام ہے جو ہمارے حالات پر چسپاں ہورہا ہے اور اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔فرماتے ہیں ! تم لوگ متقی بن جاؤ یہ الہام ہوا ہے بار بار: