خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 929
خطبات طاہر جلد 16 929 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے متعلق خیال گزرا کہ ان کی عمر لمبی تھی۔ہر ایک کو ان کی پیدائش اور وفات کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ خود بولتے ہیں کہ ہاں ہم اطلاق پارہے ہیں تو یہ الہام بھی اس طرح بول رہا ہے کہ لازماً آپ کا ذکر تھا کیونکہ خلاف توقع بات کی جارہی تھی اور خلاف توقع ایک ہی شخص کے متعلق پورا ہونا تھا۔پس اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آپ کے متعلق جو الہامات کا سلسلہ تھا وہ بہت پختہ اور ایسا یقینی تھا کہ کسی شخص کی خیال آرائی کا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ لازماً پورا ہوا ہے۔اب میں نماز کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات ہیں دوبارہ ان کو شروع کرتا ہوں کیونکہ اب رمضان بھی آنے والا ہے اور ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنی نمازوں کو سنواریں اور یہ ضرورت آج کل کے حالات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمیں اگر دنیا کے فساد اور شر سے بچانے والی کوئی چیز ہے تو وہ نماز ہی ہے اور اس کے سوا اور کوئی صورت ہم کمزوروں کے بچنے کی نظر نہیں آتی اور اس نماز کو سنوار میں جس میں ہماری زندگی بند ہے۔بعض لوگوں کو کہانیوں میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ گویا ان کی زندگی طوطے میں بند تھی جو ایک پنجرے میں بند تھا۔اگر واقعہ ایسی بات ہو سکتی تھی ، جو نہیں ہو سکتی ، تو یہ کہا نیاں ضرور پیغام دے رہی ہیں۔میرے نزدیک یہ کہانیاں یہی پیغام دے رہی ہیں کہ مومنوں کی زندگی بھی ایک خاص چیز سے وابستہ ہے اگر وہ اس کو زندہ رکھیں گے تو وہ بھی زندہ رہیں گے۔پس دنیا کی کہانیوں میں تو طوطا ہے جس میں کسی کی جان بند تھی ہمارا طوطا ہماری نماز ہے۔جب نماز مرگئی تو سب کچھ مر گیا، جب نماز زندہ رہی تو ہر مومن زندہ رہے گا کیونکہ نماز ہی سے زندگی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: روح اور جسم کا با ہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آہی جائے گا اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے اسے ہنسی آہی جاتی ہے۔،، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی دنیا میں انکار نہیں کر سکتا۔زور لگا کے اگر آپ رونے کی کیفیت طاری کریں گے تو رونا آہی جائے گا، زور لگا کر ہنسی کی کیفیت طاری کریں تو ہنسی آہی جاتی