خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 925
خطبات طاہر جلد 16 925 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء لیکن غازیوں کے متعلق بھی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت کچھ لکھا ہے۔پس جب بھی مجھے شہادت کے لئے دعا کی درخواست آتی ہے اور شہادت کے متعلق مظفر شہید کو ایک ذرہ بھی اس میں شک نہیں تھا کہ میں یہاں شہید ہو سکتا ہوں مگر ایک لمحہ کے لئے بھی ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔میرے پاس پتا نہیں ان کے پرانے خطوط محفوظ ہیں کہ نہیں لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان خطوں میں شہادت کا ایسا سرسری ذکر ہوا کرتا تھا جیسے کوئی اتفا قاسمی سی چیز ہے اس کا کوئی خوف ان کے دل پر طاری نہیں تھا۔یہ عزم صمیم لئے ہوئے تھے کہ میں نے اپنے کام کولا ز ما جاری رکھنا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت مجھے اس کام سے روک نہیں سکتی۔ان کے متعلق میں پہلے مختصر تعارف کرا دوں یہ کون تھے؟ کس کے بیٹے تھے اور کس کے پوتے تھے؟ مظفر شر ما شہید قائم مقام امیر اضلاع شکار پور، جیکب آباد، سکھر، گھوٹکی، چاروں الگ الگ اضلاع ہیں جو ان کے تابع تھے۔یہ قائم مقام امیر تھے چار اضلاع کے شکار پور، جیکب آباد، سکھر اور گھوٹکی۔یہ محترم عبدالرشید صاحب شرما امیر جماعت ہائے اضلاع شکار پور، جیکب آباد، سکھر، گھوٹکی کے صاحبزادے ہیں۔ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان چاروں اضلاع کے یہی امیر تھے۔ان کے دا دانشی عبدالرحیم صاحب شرما ہندو سے مسلمان ہوئے تھے اور بہت ہی اخلاص رکھتے تھے۔یہ انہی کا اخلاص ہے جو آج ان کے پوتوں کی شہادت کی صورت میں بول رہا ہے۔تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ 12 دسمبر 1997ء کو محترم مظفر احمد صاحب شام پونے آٹھ بجے اپنی بھا بھی محترمہ غزالہ بیگم صاحبہ بیوہ مبارک احمد مرحوم اور ان کی بچیوں کو گاڑی پر سوار کرنے کے لئے ریلوے سٹیشن لے جا رہے تھے۔یہاں لفظ مرحوم لکھنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کے بڑے بھائی مبارک بھی شہید ہوئے تھے ( اور اسی مقام پر آپ نے شہادت کا اعزاز پایا تھا جہاں ان کو گولیاں مار کے شہید کیا گیا، عین وہی مقام تھا) مبارک احمد کو میں اس لئے شہید کہہ رہا ہوں کہ اگر چہ دو سال ان زخموں کے بعد زندہ رہے جو کلہاڑیوں سے بڑے گہرے زخم لگائے گئے تھے جسم کے مختلف حصوں پر اور سر پر لیکن یہ وہی زخم تھے جن کے نتیجے میں آخر ان کی وفات ہوئی ہے۔پس جو تسلسل قائم ہوا ان زخموں کا جو دین کی دشمنی میں لگائے جائیں اور اسی بیماری کی حالت میں کوئی کچھ دیر بعد فوت ہو اس کو مرحوم کہنے کی بجائے شہید لکھنا چاہئے اور مجھے ذرہ بھی شک نہیں کہ ان کے بڑے بھائی بھی شہید تھے