خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 923
خطبات طاہر جلد 16 923 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء نہیں سکتے۔ایسے شہداء گزشتہ زمانے میں ، رسول اللہ اللہ کے زمانے میں ہوئے جن کے آسمان پر خدا صلى الله کے حضور حاضر ہونے کا اور جو آپس میں مکالمہ ہوا ہے اس کا الہاما آنحضور ﷺ کو بتا دیا گیا۔حالانکہ سوال و جواب تو بہت دور کے قصے ہیں وہ قیامت جس کے بعد یہ سوال وجواب ہونے ہیں اس صلى الله قیامت کی دوری کا تو آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔پس رسول اللہ یہ معا بعد جب ایک شہید کے واقعات سنائے جاتے ہیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ وہ واقعات اگر اسی وقت گزرے تھے اور آئندہ کی خبریں نہیں تھیں ، یعنی اس شرط کے ساتھ میں کہ رہا ہوں کہ اگر وہ اسی وقت گزر چکے تھے، تو پھر یہ عام مُردوں سے ایک الگ مضمون ہے یعنی شہداء کو جنت کی زندگی ان کے قتل کے فورابعد عطا کر دی جاتی ہے۔شاید یہی مضمون ہو جو فر مایا گیا ہے کہ تم شعور نہیں رکھتے۔اور زندہ ہیں اور تم شعور نہیں رکھتے اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ ان کی وجہ سے قوم زندہ رہتی ہے اور یہ شہادتیں ہیں جو ہمیشہ کے لئے قوم کی زندگی کی ضمانت دیتی ہیں اور تمہیں بھول جاتا ہے تمہیں اس بات کا شعوری طور پر احساس نہیں رہتا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے ہم زندہ ہیں۔اگر شہادتیں نہ ہوں تو باقی پیچھے رہنے والوں کی زندگی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔وہ جو خوشی سے اپنے آپ کو خدا کے حضور شہادت کے لئے پیش کرتے ہیں اُن کو زندہ کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ قوم زندہ ہو جاتی ہے اور جب شہادتیں رہیں گی قوم زندہ رہے گی یعنی خدا کی خاطر جان پیش کرنے والے جب تک موجود ہیں اس وقت تک ناممکن ہے کہ قوم مر جائے اور یہ شعور جو ہے پوری طرح آپ کو حاصل نہیں اور اللہ تعالی گواہی دے رہا ہے کہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔تیسری بات، ان کی زندگی کا ہمیں علم نہیں یعنی شعور نہیں جب کہ ہر نیک مرنے والا بھی تو عملاً زندہ ہو جاتا ہے یعنی اس کو ایک دوسری زندگی ملتی ہے تھوڑی دیر کے لئے۔پھر وہ ایک ایسی حالت میں سے گزرتا ہے جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔پھر لمبے عرصے کے لئے سو جاتا ہے اور اس وقت اٹھایا جائے گا جس زمانے کی دُوری کا ہمیں علم نہیں۔اس مضمون کا شہادت کے مضمون سے کوئی فرق ہونا چاہئے۔اگر فرق نہیں ہے تو یہ آیت کیوں کہہ رہی ہے کہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں شعور نہیں۔یہ وہ حالت ہے جس کو واقعہ ہم تصور میں نہیں لا سکتے سوائے اس کے کہ زندگی کی علامتیں ان پر چسپاں کر کے دیکھیں تو باشعور انسان جو زندہ ہو، اس کو اگر پوری طرح شعور ہو تو اس کا اپنے پچھلوں سے بھی