خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 922 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 922

خطبات طاہر جلد 16 922 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء ان دو آیات کی تلاوت کا آج کے خطبے سے اس طرح تعلق ہے کہ نماز کے تعلق میں میں گزشتہ خطبوں میں مضمون بیان کر رہا ہوں اور اس میں صبر کی جو نصیحت ہے اسے خصوصیت کے ساتھ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور دوسرا اس لئے کہ پاکستان سے مظفر احمد صاحب شرما کی شہادت کی اطلاع ملی ہے جن کے متعلق میں کچھ مزید باتیں بیان کروں گا لیکن ایک بات قطعی ہے کہ ان کو مردہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ زندہ ہیں لیکن تم لوگ نہیں جانتے۔صلى اللهعهم صبر کا تعلق جو نماز سے باندھا گیا ہے اس کے دو پہلو ہیں جن پر نظر رکھنی چاہئے۔ایک تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی ہے صبر کے ساتھ یعنی مدد مانگتے چلے جانا ہے اور اس بات میں جلدی نہیں کرنی کہ کب اللہ تعالیٰ کی نصرت آئے اور یہ مددنماز کے ذریعے مانگی جائے اور ایسی نماز کے ذریعے مانگی جائے جس پر صبر ہو یعنی صبر کا ایک معنی جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ نیکیوں پر دوام اختیار کیا جائے۔جب ایک دفعہ ان کو پکڑ بیٹھیں تو پھر چھوڑ نا نہیں۔یہ صبر کا مضمون دونوں طرف یکساں ں چسپاں ہو رہا ہے یعنی ایک تو صبر کے نتیجے میں تم نے جو خدا سے دعا مانگنی ہے وہ نماز کے ذریعے مانگنی ہے اور نماز پر بھی صبر اختیار کرنا ہے کیونکہ بعد میں نتیجہ یہ نہیں نکالا کہ إِنَّ اللهَ مَعَ المُصلين - فرمایا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ تو دونوں صبروں کا بیک وقت ذکر ہے اور استَعِينُوا بِالصَّبْرِ۔سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ کسی غم اور صدمے کی طرف اشارہ ہورہا ہے۔عام حالتوں میں بھی نماز پر صبر کرنا چاہئے لیکن جب کسی کی طرف سے کوئی اذیت پہنچے کوئی قومی نقصان کا خدشہ ہو یا قومی نقصان ہو جائے تو اس صورت میں لازمآمد داور صبر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں کہ ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔اگر صدمے پر بے صبری کرو گے اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔اگر صدمے کے نتیجے میں صبر اختیار کر کے دعائیں کرو گے جو خصوصاً نماز میں ہونی چاہئیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِینَ۔دوسرا پہلو لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتُ (البقرة: 155) والا ہے۔اگر چہ ہر شہادت کا ہمیں دکھ پہنچتا ہے جو لا زم ہے کہ پہنچے لیکن اللہ تعالی کی اس نصیحت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ خدا کی راہ میں جو شہید ہوتے ہیں وہ عام موتیں نہیں ہیں ان میں اور عام اموات میں ایک نمایاں فرق ہے اور اس فرق کو ہم شعور کے طور پر محسوس نہیں کر سکتے یعنی باشعوری طور پر ہم اس فرق کو پہچان