خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 921
خطبات طاہر جلد 16 921 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء اگر دنیا کے شر و فساد سے بچانے والی کوئی چیز ہے تو وہ نماز ہی ہے۔( خطبه جمعه فرموده 19 دسمبر 1997ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصّبِرِينَ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَا وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ پھر فرمایا: (البقرة: 154 155) یہ دو آیات ہیں جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان کے مضمون سے دو باتیں ہیں جو ظاہر ہیں۔ایک تو نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے استعانت مانگنے کا ارشاد ہوا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگا کرو۔اِنَّ اللهَ مَعَ یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور دوسری آیت میں یہ مضمون ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ اور ہرگز اس کو مُردہ نہ کہو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا۔بَلُ اَحْيَا ؟۔مُردے نہ کہو اُن کو۔اموات جمع ہے اس لئے یوں کہنا چاہئے اُن کو مُردے قرار نہ دو بل احیاء بلکہ وہ تو زندہ ہیں وَلَكِن لَّا تَشْعُرُونَ لیکن تمہیں اس بات کا شعور نہیں ہے کہ ان کی زندگی کی حقیقت کیا ہے۔