خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 917 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 917

خطبات طاہر جلد 16 917 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء ہیں ، بہت عجیب و غریب سے ان میں بھی بار بار میرے اصرار پر انہوں نے مجھے اطلاعیں بھیجنی شروع کی ہیں، اس سے پہلے بالکل چپ بیٹھے تھے جیسے کچھ واقعہ ہی نہیں گزرا اور اب جنازے کے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہ کرنا یہ بھی ظلم ہے۔آئندہ سے یاد رکھیں کہ ہراہم بات جو پاکستان میں ہونظام جماعت کا فرض ہے کہ جہاں سے بھی ہو سکے فوری طور پر مجھے اطلاع دے کر آگاہ کریں اور اس سے دعا کی بھی تحریک ہوتی ہے۔اب جبکہ میں یہ کہہ رہا ہوں منگل صاحب کی ایک اطلاع اب میرے سامنے آئی ہے۔آج نماز جمعه مکرم مولا نا سلطان محمود انور نے پڑھائی۔جمعہ کے ساتھ ہی نماز عصر ادا کی گئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کا تابوت بذریعہ ایمبولینس مسجد اقصی لے جایا گیا جہاں نماز جمعہ وعصر کے بعد مکرم مرزا عبدالحق صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔مختلف اضلاع کے امراء اور جماعتوں کے نمائندگان بھی آئے ہوئے تھے جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی یعنی باہر سے آنے والوں کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت پیدل کندھوں پر بہشتی مقبرہ لے جائی گئی۔جنازہ حضرت اماں جان والے چوک کے پاس سے گزر کر مسجد مبارک کے سامنے سے ہوتا ہوا بہشتی مقبرہ لے جایا گیا۔حضرت اماں جان والے چوک سے مراد یہ ہے جہاں حضرت اماں جان کی یادگار تعمیر ہے ، وہ مٹی کا گھر جس میں حضرت اماں جان رہا کرتی تھیں، اس مقام پر ایک یادگار تعمیر ہے۔اس چوک سے ہوتا ہوا یہ جنازہ وہاں پہنچا۔بہر حال الحمد للہ یہ کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی۔بہت سی دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کو رخصت کیا مگر جو وہاں پہنچنے والے پانچ ہزار ہیں صرف ان کی بات نہیں۔میری میز ان خطوں اور تعزیت کے تاروں اور فیکسوں سے بھر جاتی ہے جو ساری دنیا سے موصول ہو رہے ہیں اور ساری دنیا پر اس وفات کے صدمے سے ایک لرزہ سا طاری ہے۔تمام احمدی دعاؤں میں مصروف ہیں۔پس صرف وہ پانچ ہزار نہیں بلکہ ساری دنیا کے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اگر پہلے شامل نہیں تھے تو آج نماز عصر کے بعد جب میں نماز جنازہ پڑھاؤں گا، تو ان دعاؤں میں شامل ہو جائیں گے۔پس بہت ہی پیارا انداز ہے رخصت کا کہ ساری دنیا کی دعاؤں کو سمیٹے ہوئے کوئی انسان اس دنیا سے رخصت ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے اور ہماری عاجزانہ دعاؤں کو قبول فرمائے۔اب دوسرے مضمون کی طرف لوٹنے کا تو وقت نہیں جو نماز کا مضمون تھا اسے انشاء اللہ بعد