خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 914
خطبات طاہر جلد 16 914 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء وہ مقام بنا ہے اور ابھرا ہے اور آئندہ آنے والی تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا وجود ایک مبارک وجود تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روحانی بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔جو کچھ بھی اپنے بیٹے کے متعلق دیکھا وہ ان کے بیٹے کے متعلق پورا ہوا۔اب جبکہ میں نے ان کی جگہ ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی ان کے صاحبزادے مرزا مسرور احمد صاحب کو بنایا ہے تو میرا اس الہام کی طرف بھی دھیان پھرا کہ گویا آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میری جگہ بیٹھ۔یہ ساری باتیں ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی روح ایک پاک روح تھی ، بہت دلیر انسان، خلافت کے حق میں ایک سونتی ہوئی تلوار تھے۔یہاں پچھلے دنوں جب آپ نے سفر کیا ہے تو اس سفر کے دوران اس دفعہ اتنے خوش گئے ہیں کہ مجھے وہم آیا کرتا تھا کہ کوئی بات ہے۔پہلے کبھی بھی کسی سفر کے دوران نہ اتنا لمبا سفر کیا ، نہ اتنی خوشی کا اظہار کیا۔انگلستان دیکھتے ہوئے کہا مجھے تو اب یوں لگ رہا ہے میں نے پہلی دفعہ انگلستان دیکھا ہے۔اب جو خوشی اس دفعہ دیکھنے میں ہوئی ہے کبھی ساری عمر نہیں ہوئی۔جرمنی گئے وہاں بھی اس بات کا اظہار کیا، ہالینڈ گئے وہاں بھی اس بات کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت خوش گئے ہیں اس دفعہ یہاں سے کہ جس کی نظیر پہلے ان کے آنے میں کبھی نہیں ملتی۔اس وقت مجھے شبہ پڑتا تھا جسے میں دوسرا رنگ دے دیا کرتا تھا۔مجھے لگتا تھا کہ یہ تو شاید جانے کی تیاریاں ہیں۔پس وہ شبہ درست نکلا اس طرح گئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آئے۔واپس آہی نہیں سکتے کیونکہ اس ملک کو چلے گئے ہیں جو ملک عدم تو نہیں ہے مگر ہمارے لئے عدم ہی کی طرح ہے یعنی جو ایک دفعہ چلا جائے پھر اس کا کوئی نشان واپس نہیں آیا کرتا۔مگر وہ شخص جس کے متعلق الہامات دنیا میں باقی رہے ہوں اس کا جانا بھی ایک فرضی جانا ہے۔وہ لوگ ہمیشہ باقی رہتے ہیں ، اسی دنیا میں باقی رہتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔میری بیٹی فائزہ نے مجھے بتایا کہ اتنا خوش تھے اس دفعہ کہ بار بار مجھ سے بھی بے حد محبت کا اظہار کرتے تھے اور ایک بات پر میں نے کہا کہ آپ بہت خوش ہیں تو کہتے تھے خوش کیوں نہ ہوں میرا خلیفہ مجھ سے راضی ہے۔میں اسے بار بار دیکھتا ہوں، میں خوش کیوں نہ ہوں؟ وہ بچے نہیں تم نے دیکھے، فائزہ سے کہا، جو خلیفہ کے ساتھ پھرتے ہیں، ادھر اُدھر دوڑے پھرتے ہیں ، ان کی خوشیاں نہیں