خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 908

خطبات طاہر جلد 16 908 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء نہیں کیا جارہا۔پھر رفیق باجوہ صاحب کا اعلان ، موجودہ آئین تضادات کا شکار ہے جس سے فکر اور عقیدہ کا فقدان ہے۔73ء کا آئین متفقہ آئین تھا مگر بعد میں حکمرانوں نے اقتدار کو طول دینے اور ذاتی مقاصد کے لئے اس میں ترامیم کیں جن سے آئین متنازعہ ہو گیا۔یہ کہہ رہے ہیں میں نے بغاوت کا اعلان کیا ہے۔بالکل جھوٹ ہے کہیں سارے بیان میں کسی بغاوت کا کوئی اعلان نہیں لیکن جو کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کر رہے ہیں ان کو نہیں پکڑ رہے۔مولانافضل الرحمان نے کہا، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت قوم کے اندرا بھرنے والی بغاوت کو منظم کر کے اس نظام کے خلاف تحریک چلا کر اس کا تیا پانچا کیا جائے۔میں نے تو کہا تھا کہ آئین کرے گا اگر کرے گا۔آئین غلط ہے وہ ملک کو غرق کرے گا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سارے ملک میں بغاوت ہونی ضروری ہے یعنی پاکستان میں بیٹھا ملاں بیان دے رہا ہے اور کسی کو جرات نہیں کہ اس کا منہ بند کرے۔مسعود صاحب سابق وزیر قانون ہیں وہ فرماتے ہیں ، 1973ء کا آئین تمام ملک کی ضروریات پوری کرتا ہے اس میں ترامیم کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔فضل الرحمان صاحب وہی ملاں فرماتے ہیں، ملک بے آئین ہو کر رہ گیا ہے اور تمام اقدامات ماورائے آئین اٹھا لئے گئے ہیں۔اب دیکھیں جو ملک بے آئین ہو گیا ہواس کے آئین کے متعلق اگر میں تبصرہ کروں تو وہ تو بغاوت ہے لیکن ایک ملاں کہے کہ ملک بے آئین ہو گیا ہے اور ملک کے خلاف بغاوت ہونی چاہئے ، آئین کے خلاف نہیں سارے ملک کے خلاف ،اس کو کوئی نہیں پکڑتا۔کموڈور طارق مجید صاحب لکھتے ہیں، اس وقت آئین کا ستیا ناس کر دیا گیا ہے۔آئین کی اتنی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں کہ سپریم کورٹ میں خلاء پیدا ہو گیا ہے۔آئین ایسے لگے گا جیسے ناقص قسم کا کاغذ کا کوئی ٹکڑا ہو۔ناقص رڈی کاغذ کا ٹکڑا مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے کہا ہولیکن اگر میں نے کہا بھی تھا تو یہی تو بات ہے جواب ملک کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ رڈی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ اس قانون کی حیثیت نہیں رہی۔سلطان سہروردی صاحب ایڈووکیٹ لکھتے ہیں، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بارہ میں کوئٹہ بینچ کے فیصلے کے بعد یہ کہنا کہ آئین ابھی باقی ہے منافقت کے سوا کچھ نہیں۔پس یہ ساری قوم جھوٹ اور منافقت اور تضادات کا شکار ہو چکی ہے۔غنویٰ بھٹو صاحب لکھتی ہیں ، نظام تبدیل کئے بغیر ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا۔روزنامہ خبریں میں ایک ادار یہ لکھا گیا ہے جس میں بہت سی تفاصیل ، بہت سے مشورے دئے ہیں جو بعینہ ان نتائج کے مطابق ہیں جو میں نے