خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد 16 907 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء سے زیادہ نقصان مرزا طاہر احمد اور اس کی جماعت کو ہوا ہے، مریدوں میں بھی کمی آگئی۔سبحان اللہ احد سے زیادہ احمق قوم ہے۔یہ جسٹس ہوا کرتے تھے رفیق تارڑ صاحب، ان کی دماغی حالت یہ ہے۔کہتے ہیں سب سے زیادہ نقصان مرزا طاہر احمد اور اس کی جماعت کو ہوا اور اگر مجھے اور میری جماعت کو ہوا تو اس بحران میں کیسے ملوث ہو گیا لیکن مراد ان کی یہ ہے کہ میرا بحران نافذ کرنے کا ارادہ ناکام ہوا اس لئے جماعت کو نقصان پہنچا ہے۔نقصان تو سارا ملک رو رہا ہے کہ ملک کو پہنچا ہے اور اس ملک کے لئے میں نے دعا کا اعلان کروایا تھا کہ ساری جماعت دعا کرے کہ اس ملک کو نقصان نہ پہنچے۔اگر نقصان پہنچنا ہے تو اس بیہودہ آئین کو پہنچ جائے جو ملک کو ڈبو رہا ہے۔یہ مریدوں کی کمی والا واقعہ بھی ان سے پوچھنا چاہئے اور ان سے پتا کرنا چاہئے۔آئین کو ختم کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں مرزا طاہر پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔یہ بات صحیح لگتی ہے کہ قادیانی ملک توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔یہ راجہ ظفر الحق صاحب کا بیان ہے۔آگے ہے مرزا طاہر کی تقریر ملک کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان ہے۔اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لے کر ملک کی سالمیت کا تحفظ کیا جائے۔یہ عطاء اللہ شاہ بخاری کے بیٹے کا اعلان ہے۔اب یہ تو وہ الزامات ہیں جو مجھ پر لگائے جار ہے ہیں اور جماعت پر لگائے جارہے ہیں۔اور اب وہ ملک کا اپنا حال جو ملک کے اخباروں میں چھپ رہا ہے اس میں سے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔رفیق باجوہ صاحب، آئین متنازعہ ہو چکا ہے ترامیم ختم کر دی جائیں تو 1973ء کا آئین بہترین ہے۔یہی تو میں نے کہا تھا کہ وہ ساری ترامیم جو 1973ء کے آئین میں جماعت کے خلاف داخل کی گئی ہیں ان کو ختم کر دینا چاہئے۔پھر تمہارے بچنے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے۔وہ صاحب جو ہمارے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور پہلے سالوں میں بہت مخالفت بھی کی رفیق باجوہ صاحب اب خود یہ اعلان کر رہے ہیں۔ترامیم ختم کر دی جائیں تو 1973ء کا آئین بہترین ہے، کیا 1973ء کا آئین نا کام ہو گیا ہے؟ اس موضوع پر دانشوروں کی آراء ہیں۔ڈاکٹر باسط صاحب، کوئی آئین موجود نہیں اگر تصور کر لیا جائے کہ 1973ء کا آئین موجود ہے تو یہ بھی موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔نئے آئین کی ضرورت ہے۔جب میں کہوں نئے آئین کی ضرورت ہے تو کہتے ہیں یہ غدار ہے اور سارا ملک کہہ رہا ہے اور کوئی غداری کا مقدمہ قائم