خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 906
خطبات طاہر جلد 16 906 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء یہ تنبیہ تھی قوم کے دانشوروں کو اور سر براہوں کو کہ احمدیوں والی کلاز (Clause) کو آپ ہاتھ نہ لگانا ورنہ ہم فساد برپا کریں گے اور یہ بات بے وقوف بھول گئے کہ یہ فساد بر پا کرنے کی سازش تو قاضی حسین احمد اور لغاری صاحب کی ہے۔اگر اس معاملے میں فساد برپا ہوتا ہے تو لیڈرشپ ان کے ہاتھ میں آتی اور سارے ملاں بے وقوف بن جائیں گے اور اگر ابھرے تو اس فساد کے نتیجے میں یہی ابھریں گے۔عجیب قوم ہے ان کو اپنے سامنے ہوتے ہوئے معاملات بھی دکھائی نہیں دے رہے۔دکھائی دیتے ہیں تو سمجھ نہیں آرہی ، ہر طرف حماقت کا دور دورہ ہے۔اب جو میرے الفاظ تھے وہ یہ تھے ان میں سے ایک تو میں بیان کر چکا ہوں۔اگر احمد یوں کو غیر مسلم قرار دینے والا آئین نہ ٹوٹا تو ملک ٹوٹ جائے گا یعنی وہ آئین ملک کو لے ڈوبے گا۔یہ اعلان تھا۔اس کے مقابل پر یہ ایک اعلان سن لیجئے۔سردار ابراہیم صاحب کہتے ہیں جسٹس سجاد، فاروق لغاری کو بھی لے ڈوبے۔بعینہ وہی بات جو میں کہہ رہا ہوں یہ خود مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں۔پھر اور بھی (اخبار) جنگ میں اسی طرح لے ڈوبے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جو شور مچانے والے ہیں وہ یہ اعلان کر رہے ہیں۔بات کھل گئی، عدلیہ، پارلیمنٹ کا لڑانا قادیانیوں کی سازش تھی۔عدلیہ، پارلیمنٹ اور صدر یعنی سارے اتنے احمق لوگ ہیں کہ قادیانیوں کی باتوں میں آکر ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔تو جولڑے ہیں ان کو پکڑو، ان کے خلاف مقدمے چلاؤ۔غدار تو وہ ہیں جو ہمارے کہنے پر لڑ پڑے، میں لندن میں بیٹھا کیسے غدار ہو گیا۔جو پاکستان میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور ملک سے غداری کر رہے ہیں ان کو پکڑو۔مولانا امجد صاحب آئین توڑنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور مرزا طاہر احمد کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے واپس یہاں لایا جائے۔مجھے تو جب لائیں گے آپ دیکھی جائے گی۔جو ہیں وہاں ان کو تو پکڑ لو پہلے۔ان کے خلاف تو غداری کے مقدمے قائم کرو۔آگے سنئے بحران قادیانیوں نے پیدا کیا، لغاری نورانی ملاقات میں اتفاق رائے۔لغاری صاحب تو شامل ہیں اس اتفاق میں۔عجیب و غریب ہستی ہیں یہ۔خود صدر ہیں سارا جھگڑا فساد انہوں نے مچایا ہوا تھا۔آخر یہ جھگڑا ان کو لے ڈوبا اور ساتھ قاضی حسین احمد کو بھی لے ڈوبا اور آخر پر مل کر یہ بیان جاری کیا ہے کہ قادیانیوں کی سازش تھی جو یہ بحران پیدا ہوا ہے۔جسٹس رفیق تارڑ صاحب فرما رہے ہیں، حالیہ بحران کے پیچھے قادیانی تھے۔کھیل کی ناکامی سے سب