خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 85

خطبات طاہر جلد 16 85 خطبہ جمعہ 31 جنوری 1997ء تو یہ سبحان والا مضمون بھی دراصل یہی ہے۔جب آپ کہتے ہیں سُبْحَنَكَ اللهُم تو یہ لازماً سوچنا چاہئے کہ خدا کے ہر عیب سے پاک ہونے کو واقعہ ہم قابل تعریف سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں یا محض ایک زبانی جمع خرچ ہے اور جب آپ کہتے ہیں ہاں ہم واقعی سمجھتے ہیں تو انسان کا اپنا کردار اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کو متہم کرنے لگتا ہے، مجھ میں یہ برائی بھی ہے، مجھ میں وہ برائی بھی ہے، مجھ میں وہ برائی بھی ہے اور میں یہ کہہ رہا ہوں سُبحَنَكَ اللهُمَّ اے اللہ! تو ہر عیب سے پاک ہے و بحمدك اور عیب سے پاک ہوئے بغیر کوئی حمد نصیب ہی نہیں ہو سکتی اور چندکلموں کے بعد میں نے الحمد کے مضمون میں داخل ہونا ہے جو بہت عظیم مضمون ہے تو پھر میں کیا کروں کہ میری نمازیں مقبول ہو جائیں، میں کیا کروں کہ میری نماز کا آغاز ہی سچا ہو جائے اور ایک کھوکھلا ، خالی دعوی نہ رہے۔اس طرح غور کر کے اگر آپ نمازیں پڑھیں تو آپ کی ہر نماز میں سبحان کا مضمون ہی آپ کی ساری زندگی پہ چھا جائے گا۔ناممکن ہے کہ کروڑ نمازیں بھی پڑھیں تو یہ مضمون اطلاق نہ پایا ہو اور ہمیشہ نئے رنگ میں اطلاق نہ پاتا ہو۔پس ایک ایک عیب کا احتساب کرنا ان معنوں میں جیسا کہ نماز نے ہمیں سکھایا ہے اور قرآن نے سکھایا ہے یہ وہ احتساب ہے جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے رمضان میں فرمایا کہ جس نے رمضان احتساباً گزار دیا، جس نے رمضان ہمہ وقت اپنے نفس کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارا ہے گہری نظر سے جائزہ لیتے ہوئے گزارا ہے کہ میں نے کیا پایا ہے، کیا کھویا ہے اس کو خدا تعالیٰ یہ خوشخبری دیتا ہے کہ اب اس رمضان کے دوران اس کے پہلے سارے گناہ بخشے جائیں گے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو اچھی طرح سمجھ کر جماعت احمد یہ اس دنیا میں غیروں پر وہ حیرت انگیز امتیاز حاصل کرلے گی جس کا کوئی تصور ہی غیروں میں نہیں پایا جاتا۔مسلمان کہلاتے تو ہیں مگر کوئی ان کو نہیں سمجھا تا کہ تمہاری مسلمانی کیسے بنے گی۔کون سے قدم اٹھاؤ گے تو قرب الہی نصیب ہوگا۔کون سے قدم اٹھاؤ گے تو نماز سلیقے کی ہو جائے گی اس کے بغیر پانچ وقت جو چاہے کرتے پھر و، پانچ وقت چھوڑ کر ہزار ہا دفعہ خدا کے حضور حاضر ہو تمہاری نمازوں میں کوئی پھل نہیں لگے گا کیونکہ وہ خالی بالیاں ہیں جن میں بیج پڑا ہی نہیں۔تو اپنی نمازوں کو، اپنی عبادتوں کے بیجوں سے بھر دیں، ان کو خالی دانے نہ رہنے دیں اور سبحان کے اوپر اتنا غور کریں کہ آپ غور کرتے کرتے اس انکسار کے آخری مقام تک جا پہنچیں جس کے بعد آپ کو اپنا وجود غائب ہوتا، مٹتا ہوا دکھائی دینے لگے اور دل سے