خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 899 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 899

خطبات طاہر جلد 16 سکتا ہے۔فرمایا: 899 خطبہ جمعہ 5 /دسمبر 1997ء عورت اور مرد کا جوڑ تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔میں کہتا ہوں حقیقی، ابدی اور لذت مجسم جو جوڑ ہے وہ انسان اور خدا تعالیٰ کا ہے۔مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے۔“ اب دیکھیں کیسی عظیم بات ہے جو آپ فرما رہے ہیں اور ایسی بات ہے جو سراسر حقیقت ہے کچھ بھی اس میں مبالغہ نہیں۔فرماتے ہیں: دو کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزہ نہ آئے تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامد میں کرتا ہے ، روپیہ خرچ کرتا ، دکھ اٹھاتا ہے کہ وہ مزہ حاصل ہو۔وہ نا مرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کر سکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔مگر آہ! وہ مریض دل ، وہ نامراد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذت نہیں آتی ؟۔اب مثال دنیا کی دی ہے لیکن اس دنیا کے روحانی پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے اور ایک دنیا کا مضمون کس طرح روحانیت کے مضمون میں تبدیل فرما دیا ہے۔د مگر آہ وہ مریض دل ، وہ نامراد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذت نہیں آتی۔اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی۔دنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔کس قدر بے نصیب ہے، کیسا ہی محروم ہے۔عارضی اور فانی لذتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پالیتا ہے۔کیا ہوسکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں مگر تلاش حق میں مستقل اور پو یہ قدم درکار ہیں۔۔۔66 کتنا عظیم الشان اور کتنا حقیقی مضمون ہے۔فرماتے ہیں جو علاج تلاش کرتا ہے اپنی لذتوں کے کھوئے جانے کو محسوس کرتے ہوئے ان کی تلاش شروع کرتا ہے ان کی کھوج میں مارا مارا پھرتا ہے