خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 896 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 896

خطبات طاہر جلد 16 896 خطبہ جمعہ 5 /دسمبر 1997ء اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔“ اب کمبخت انسان کہہ کر آپ نے اپنے دل کا غبار نکالا ہے۔واقعہ دل کا غبار نکالنے کے لئے اس سے بہتر اظہار ممکن نہیں تھا۔انبیاء گالیاں تو نہیں دیا کرتے مگر کمبخت لفظ میں ایک قسم کا اظہار افسوس بھی ہے اور حقیقت حال بھی ، اس سے بہتر بیان نہیں ہو سکتی۔کم بخت کا مطلب ہے جس کا نصیب چھوٹا ہے، بد نصیب کو تاہ دست ہے۔اس اعلیٰ مقام تک ہاتھ پھیلائے بھی تو پہنچ نہیں سکتا۔اس لئے فرمایا وہ کمبخت انسان ہے اس پر مجھے افسوس آتا ہے۔پھر فرمایا عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ کی حقیقت۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بہت ہی لطیف مضمون چھیڑا ہے جسے دنیا کے جاہل نہیں سمجھ سکتے اور بعضوں نے بہت شوخیاں دکھائی ہیں اس مضمون پر یعنی انسان کو دنیا کی لذتوں میں کھانے کے بعد یا بعض سائیکالوجسٹ کے نزدیک کھانے سے بھی پہلے جنسی تعلقات کی لذت افضل محسوس ہوتی ہے۔اس کی طرف زیادہ زور سے کھینچے جاتے ہیں۔فرائیڈ نے یہی نظریہ پیش کر کے ایک پوری نفسیاتی طب کی بنیاد رکھی تھی۔اگر چہ اس نظریہ سے مجھے اختلاف ہے اور بھی بہت سے آج کل سائنس کے یعنی نفسیات کے ماہرین اس سے اختلاف کرنے لگے ہیں لیکن ایک بات اس نے ضرور محسوس کی تھی جو درست ہے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ جنسی تعلقات کی لذت دوسرے تمام تعلقات میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور تمام لذتوں میں سے اگر بالا نہیں تو تقریباً بالا ہے۔فرماتے ہیں ربوبیت اور بندگی کے رشتے میں بھی ایک ایسا رشتہ ہے جسے کوتاہ عقل لوگ سمجھ نہیں سکتے۔وہ کہتے ہیں عبادت کا اس جنسی تعلق سے کیا رشتہ ہوسکتا ہے، کیا مماثلت ہوسکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں لذت تو ایک ہی چیز ہے خواہ وہ کسی چیز کی وجہ سے نصیب ہو بالآخر لذت اپنے تصورات کو پالینے کا نام ہے۔اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہی لذت ہے اور اگر آپ مقاصد کو حاصل کرتے ہوئے لذت پاتے رہیں تو کچھ عرصہ کے بعد مقاصد نظر انداز ہو جائیں گے ، لذت باقی رہ جائے گی۔یہ وہ فلسفہ ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام علماء اسلام سے بڑھ کر روشنی ڈالی ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک کبھی کسی نے اس گہرائی سے یہ فلسفہ پیش نہیں فرمایا تھا اور