خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 894
خطبات طاہر جلد 16 894 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء آسان نہیں ہوتا مگر اسے کرنے کے لئے اور آخری نتیجہ حاصل کرنے کے لئے جس محنت کی ضرورت ہے ذہن اس محنت کی ضرورت کا قائل ضرور ہو جاتا ہے۔دل اگر چہ اس محنت پر آمادہ نہ ہو مگر ذہنی صلاحیتیں دل کو مجبور ضرور کر سکتی ہیں کہ اس بات میں حقیقت ہے اس لئے آگے بڑھو اور کوشش کر کے بھی اس اعلیٰ مقام کو حاصل کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتر اور بلند ہے۔“ اب یہ ایک عجیب سا تبصرہ ہے جو دنیا میں اکثر انسانوں کو اپنے تجربے میں درست دکھائی نہیں دیتا۔بہت بڑے مخلصین دیکھے ہیں ہم نے ، جو عبادت بجالاتے ہیں اور باقاعدگی سے عبادت بجالاتے ہیں لیکن وہ زور لگا کر عبادت بجالاتے ہیں اور ان کی عبادتیں محض اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنی ضروریات مانگنے پر زور دیتے ہیں۔مگر محض عبادت میں لذت ہو یہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے صحابہ میں ایسی مثال کثرت سے ملتی تھی کہ جو لوگ عبادت میں اٹک گئے تھے ان لوگوں سے ہم نے مسجدوں کو آباد دیکھا، مسجد مبارک میں بھی مسجد اقصیٰ میں بھی۔ان صحابہ کی یاد آتی ہے تو حیرت ہوتی ہے۔اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیوں ان کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے۔ایک معمولی قلی اور مزدور اور غریب لوگ جن کو باہر کی دنیا میں کمائی کے لئے وقت قربان کرنا پڑتا تھا اس وقت کو خوشی سے قربان کر کے پانچوں وقت مسجد پہنچا کرتے تھے۔کچھ حلوائی تھے، کچھ مٹھائیاں بیچنے والے یا دودھ بیچنے والے، دہی بیچنے والے، مونگ پھلیاں بیچنے والے ایسے غریب غریب لوگ جو دوڑے ہوئے مسجد میں چلے آتے تھے اور ہر دفعہ ان کو دکان پر تالے لگانے پڑتے تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو بغیر تالوں کے، چونکہ چھا بڑیوں میں تجارت کرتے تھے، بے تالوں کے اپنی چھا بڑیاں چھوڑ جایا کرتے تھے اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے تقویٰ کا معیار بھی اتنا بلند تھا کہ کوئی ان چھابڑیوں کی طرف بری نظر نہیں ڈالتا تھا۔مٹھائیوں کی دوکانیں خالی پڑی ہوئی ہیں قلاقند سامنے بھی پڑی ہے مجال ہے جو کوئی شخص اسے