خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 883
خطبات طاہر جلد 16 مقام ہے جسے ولایت کہا جاتا ہے۔883 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء ”خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے یعنی ان کی نصرت کرتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی نصرت ہی سے ملتا ہے۔پہلا دروازہ ولایت کا ویسے بند ہوا اور اب دوسرا دروازہ معیت اور نصرت الہی کا اس طرح پر بند ہوا۔“ بتائیں کیسے بند ہوا یہ بات ہے جو ٹھہر کر سمجھنے والی ہے۔پہلا دروازہ اُس طرح بند ہوا اور و, دوسرا دروازہ اس طرح بند ہوا۔پہلا دروازہ فسق و فجور نے بند کر دیا کیونکہ ان کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔ولایت اور فسق و فجور اکٹھے نہیں چلا کرتے اور دوسرا دعوی اس طرح بند ہو گیا کہ جب بھی ان کو مشکلات پڑتی ہیں تو ان مشکلات میں چھوڑ دئے جاتے ہیں۔ان کا کوئی آسمان سے مددگار نہیں اترا کرتا ، وہ اپنی بلاؤں کے نرغے میں پھنس جاتے ہیں تو ان کے لئے ولایت کا دروازہ بھی بند ہوا اور معیت کا دروازہ بھی بند ہوا۔دوسرا دروازہ معیت اور نصرت الہی کا اس طرح پر بند ہوا۔یا درکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت کبھی بھی ناپاکوں اور فاسقوں کو نہیں مل سکتی۔اس کا انحصار تقویٰ ہی پر ہے۔خدا کی اعانت متقی ہی کے لئے ہے۔پھر ایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجات مختلفہ رکھتا ہے۔ان کے حل اور روا ہونے کے لئے بھی تقوی ہی کو اصول قرار دیا ہے معاش کی تنگی اور دوسری تنکیوں سے راہ نجات تقومی ہی ہے۔“ اب ایک دفعہ تو فرمایا ہے کہ انسان سوکھی روٹی میں بھی چین پاتا ہے اور جھونپڑی میں زیادہ امن محسوس کرتا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایک مومن کو دنیا کی زندگی میں نعمتیں میسر نہیں آیا کرتیں۔جب وہ خدا کی خاطر نعمتیں چھوڑ دیتا ہے جب نعمتیں اس کے پیچھے آتی ہیں۔یہ وہ مرکزی نکتہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اب سمجھا رہے ہیں۔فرمایا: معاشی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہ نجات تقومی ہی ہے“۔فرماياوَ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 443) خدا متقی کے لئے ہر مشکل میں ایک مخرج پیدا کر دیتا ہے اور اس کو غیب سے اس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم