خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 884
خطبات طاہر جلد 16 884 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء پہنچا دیتا ہے۔اس کو ایسے طور پر رزق دیتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہ لگے۔“ (احکام 24 /مارچ 1901ء صفحہ: 3 ) یعنی حضرت مریم کو جیسے مادی رزق بھی دیا جاتا تھا اور حضرت زکریا تک کو پتا نہ تھا کہ کیسے آتا ہے۔اس طرح جو خدا تعالیٰ کا تقویٰ رکھنے والا خدا کی خاطر نا پاک رزق سے منہ موڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر بعض ایسے مواقع آتے ہیں کہ جب وہ اپنا جو کچھ بھی ماحصل ہے اسے خدا کی راہ میں صرف کر دیتا ہے تو یاد رکھو اس کو خدا تعالیٰ چھوڑ نہیں کرتا۔اس کے لئے دو نعمتیں ہیں ایک یہ کہ ہر مصیبت سے مخلصی کے لئے ایک راہ کھولی جاتی ہے اور دوسرا اس کی رزق کی تنگی دور کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسی ایسی راہوں سے اس کو رزق عطا فرماتا ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ایسے لوگ بکثرت میں نے جماعت احمدیہ میں دیکھے ہیں۔اب تو ان کا شمار میرے لئے ممکن نہیں رہا جنہوں نے تقویٰ کی راہ حصول رزق کے لئے اختیار کی اور خدا کی خاطر معمولی مادی قربانیاں کیں جو انسان کی نظر میں معمولی تھیں مگر اللہ کی نظر میں نہیں تھیں اور خدا تعالیٰ ان کو ایسی ایسی نئی نئی راہوں سے عطا کرتا چلا جا رہا ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ان کو سنبھالیں کیسے اور کیوں ان پر یہ نعمتیں نازل ہو رہی ہیں۔یہ آیت ہے جوان کی ترقیات کا راز ہمیں بتارہی ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی خاطر ضرور کوئی ایسی اندرونی یا ظاہری قربانیاں پیش کی تھیں کہ جب دنیا کی نعمتوں کوٹھکرا دیا تھا اور ان کے مقابل پر اللہ کی راہ اختیار کی تھی ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ ضرور ایسے سامان مہیا فرماتا ہے۔اب انہیں کیسے پتا چلا کہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت کے طور پر یہ سامان ہیں، دنیا داروں کی طرح یہ ایک ابتلاء ہی نہیں ہے جو ان کو مزید بدیوں پر مجبور کرتا ہے۔اس کا علم بالکل ظاہر وباہر ہے اس میں ذرہ بھی شک نہیں۔جو کچھ بھی یہ خدا سے پاتے ہیں اسی کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کی لذت خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں ہے۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ یہ مضمون ہے جو ثابت کرتا ہے کہ ان پر دنیا کے احسانات اللہ ہی کی طرف سے تھے ورنہ اسی کی راہ میں ان احسانات کو خرچ نہ کرتے۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اس صراط مستقیم کی توفیق عطا فر مائے جس پر یہ ساری منازل آتی ہیں اور یہ منازل مزید ترقی کرتی چلی جاتی ہیں، اونچا ہوتی چلی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مد کا ہاتھ ہمیں ان مشکل راہوں میں آگے بڑھنے کو آسان کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین