خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد 16 880 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء سکتی۔جس قدر د نیا زیادہ ملتی ہے اسی قدر بلائیں زیادہ سامنے آجاتی ہیں۔“ اب یہ بھی ایک ٹھوس ، لازمی، ہمیشہ رہنے والی حقیقت ہے کہ دنیا کے نتیجے میں دائگی امن نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔دل کا چین ایک ایسی آگ کے لئے جگہ بناتا ہے اور دل سے رخصت ہو جاتا ہے جو هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ ( 3 : 31) کی ایک جہنم بن جاتی ہے۔جتنامال بڑھتا چلا جائے اس کی فکریں بڑھتی چلی جاتی ہیں اس کی حفاظت کے سامان کے تقاضے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ اس مال سے میں لذت کیسے حاصل کروں۔خرچ کرتا ہے تو غلط راہوں پر کیونکہ اگر غلط راہوں پر خرچ کرنے کے نقصان وہ دیکھ رہا ہوتا تو غلط راہوں سے اس مال کو کما تا بھی نہ۔پس وہ را ہیں جو انسان کو ، ایک متقی کو غلط دکھائی دیتی ہیں وہ اس کو غلط دکھائی نہیں دیتیں۔پس جن راہوں سے وہ مال آتا ہے انہیں راہوں پر خرچ کیا جاتا ہے یعنی اپنی انا کی خاطر، اپنی بڑائی کی خاطر اپنے دکھاوے کی خاطر اور اپنے لئے جاہ و عزت خریدنے کی خاطر۔جب بھی ایسا ہوا سے تسکین نہیں ملتی اور دل میں اور طلب پیدا ہو جاتی ہے پھر بھی تسکین نہیں ملتی۔لوگ بھاگے بھاگے پھرتے ہیں کسی طرح سکون قلب میسر آئے لیکن بڑے سے بڑے مقامات پر پہنچ جائیں سکون قلب سے عاری رہتے ہیں۔بعض بڑے بڑے مالدار لوگوں نے خود کشیاں کرلیں اور ان کے واقعات یہاں آئے دن ٹیلی ویژن کے ذریعے اور اخبارات کے ذریعے منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔دنیا کی ہر دولت انہیں نصیب تھی۔بعض ایسی شخصیتیں بھی تھیں جن کو دولت کے علاوہ بنی نوع انسان کی کشش کا مرکز بنے کی سعادت اگر کہا جائے تو سعادت بھی نصیب تھی لیکن جب ان کے حالات شائع ہوتے ہیں تو آدمی یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ان کے سینے میں ایک آگ جل رہی تھی جو موت کے آخری لمحے تک بھڑکتی رہی اور آخری الفاظ جو انہوں نے پیچھے چھوڑے وہ یہ تھے کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم خوش نصیب تھے اب جبکہ ہم اپنی جان لے رہے ہیں یا بعض دفعہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنی جان خود لی ، بعض دفعہ کسی نے زہر دیا، بعض کو کسی بیماری نے گھیر لیا تو ان تینوں صورتوں میں وہ یہ اقرار کرتے جاتے ہیں کہ دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم بڑے امن میں ہیں مگر اب جبکہ رخصت کا وقت آیا ہے ہم دنیا کو بتاتے ہیں کہ ایک آگ کے سوا ہم نے کچھ نہیں پایا جو سرد ہونا جانتی ہی نہیں۔ہم اپنے دل کی خواہش کی تسکین کے لئے ہر طرف دوڑے ہیں مگر یہ بد بخت آگ ایسی ہے جو سرد ہونا نہیں جانتی۔