خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 881 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 881

خطبات طاہر جلد 16 881 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول سو فیصد درست ہے۔جس قدر دنیا زیادہ ملتی ہے اسی قدر بلائیں زیادہ سامنے آ جاتی ہیں۔پس یاد رکھو حقیقی راحت اور لذت دنیا دار کے حصہ میں نہیں آئی۔یہ مت سمجھو کہ مال کی کثرت ، عمدہ عمدہ لباس اور کھانے کسی خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ہرگز نہیں ، بلکہ اس کا مدار ہی تقویٰ پر ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ: 280) اب اپنی نعمتوں پر غور کر کے دیکھیں جو آپ کو نصیب ہیں۔اچھے کپڑے، اچھے کھانے یہ اللہ کے فضل کے سوا آپ کو تسکین نہیں عطا کر سکتے۔ایک بیمار شخص جس کو معدے کا کینسر ہے اس کے سامنے آپ ہزار کھانے پیش کریں وہ جھوٹی نظر سے بھی نہیں ان کی طرف دیکھے گا بلکہ اس کے لئے وہ تکلیف میں اضافہ کا موجب بنیں گے۔ایک آدمی جو لباس پہن ہی نہیں سکتا، جو فالج کا مریض ہے، جو کبڑا ہو چکا ہے بیماریوں کی وجہ سے، اس کو اچھا لباس کیا تسکین دے گا۔پس لباس بھی تسکین اسی وقت عطا کرتا ہے جب خدا ایک تسکین عطا کرنا چاہتا ہے۔کھانا بھی اسی وقت تسکین عطا کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ یہ تسکین عطا کرنا چاہے اور متقیوں کے ساتھ خدا کا یہ سلوک ہے۔بعض متقی ایک سوکھی روٹی میں بھی وہ لذت پاتے ہیں جو امیر اچھے سے اچھے کھانے میں لذت نہیں پاتا اور بھوک کے وقت وہ روٹی کو اس طرح شکر ادا کرتے کرتے چباتے ہیں کہ ایک شخص جو ان کو چوں سے آگاہ نہیں ہے وہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس شخص کو اس سوکھی روٹی میں کیا مزہ آ رہا ہے۔مگر بہر حال یہ مضمون میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اس کا جو طبعی فلسفہ ہے وہ بھی آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔اب میں اسے چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں آگے بڑھتا ہوں۔فرمایا: وو در حقیقت متقیوں کے واسطے بڑے بڑے وعدے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ولی ہوتا ہے۔جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مقرب بارگاہ الہی ہیں۔“ اگر کسی انسان کو احساس ہو کہ کوئی بڑا آدمی اس کا دوست ہے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنے والا ہے تو دنیا کے کسی بہت بڑے آدمی کا تصور باندھیں جو آپ کا دوست ہو اور آپ کی ضرورتوں کا خیال رکھنے والا ہوتو دیکھیں دل میں کتنا یقین اور اعتماد ہوگا کہ ہمیں کون ہاتھ لگا سکتا ہے، ہم فلاں