خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 879
خطبات طاہر جلد 16 879 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997 ء یادرکھو کچی لذت تقویٰ کے بغیر حاصل ہو ہی نہیں سکتی اور نماز میں بھی سب سے بڑا مسئلہ حقیقی لذت کا مسئلہ ہے۔بہت سے لوگ نماز پڑھنے کی کوشش ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں کیونکہ انہیں نماز میں حقیقی لذت محسوس نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حقیقی لذت تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اور اس خوشی کو دنیا کی خوشیوں سے ملا کر ان کا موازنہ بھی فرماتے ہیں۔د و متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں بھی پاسکتا ہے۔“ اب یہ ایسا حقیقی امر ہے کہ جن لوگوں کو ایسا تقویٰ نصیب نہ ہو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ایک جھونپڑی میں وہ اپنے دل کی مراد پاسکتے ہیں۔دو متقی سچی خوش حالی ایک جھونپڑی میں بھی پاسکتا ہے جو دنیا دار اور حرص و آز کے پرستار کور فیع الشان قصر میں بھی نہیں مل سکتی۔یہ ایک بالکل حقیقت ہے کہ اولیاء اللہ کی تاریخ اس بات کی گواہ کھڑی ہے ، انبیاء کی تاریخ اس بات کی گواہ کھڑی ہے۔وہ اور ان کے ماننے والے جنہوں نے خود محلات کو چھوڑ دیا اور جھونپڑیوں میں آبسے اگر جھونپڑیوں میں ان کی دل کی راحت نہ ہوتی تو وہ اپنے محلات کو ٹھوکر کیوں مارتے۔بڑی بڑی جائیدادیں ترک کر دیں، بڑے بڑے مکانات ویران کر دئے اس لئے کہ وہ ان لوگوں سے آباد تھے جو خود ویرانی کا مظہر ہیں۔ان کے ایسے رشتے دار، ان کے معاشرے کے دوسرے بااثر لوگ جو ویرانی کا مظہر تھے ان سے وہ گھر آبادر ہے لیکن انہوں نے ان گھروں کو ترک کر دیا اور جھونپڑیوں کو اپنا لیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول اگر تاریخ پر آپ گہری نظر ڈالیں تو لازماً سچا ثابت ہوگا کہ ابتدائی مقابلے کے وقت یا ابتدائی موازنے کے وقت ایک نیک انسان جو خدا کا تقویٰ دل میں رکھتا ہے اس کی اندرونی حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا کے ذکر میں آرام پاتا ہے خواہ وہ ذکر جھونپڑوں میں نصیب ہو۔اگر محلات میں نہیں ملتا تو ان محلات کو چھوڑ دے گا۔اگر جھونپڑیوں میں ملتا ہے تو جھونپڑیوں میں اپنی پناہ ڈھونڈے گا اور ہمیشہ اسے اس جھونپڑی میں لذت محسوس ہوگی جو خدا کے ذکر سے آباد ہو اور اس کی راہ میں کوئی روک پیدا کرنے والا نہ ہو۔جو دنیا دار حرص و آز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہیں مل