خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 878 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 878

خطبات طاہر جلد 16 878 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997 ء کون سے ولی بننا ہے تو وہ گرم لوہا ٹھنڈا پڑنے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ ان پاک لوگوں میں جنہوں نے جماعت کو قبول کیا مزید ترقی کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔وہ اسی طرح اسی حال پر منجمد ہو جاتے ہیں جس حال میں وہ باقی جماعت کو اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔اگر وہ اعلیٰ اقدار سے محروم ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں اگر ہم بھی محروم رہیں تو ہمیں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔اکثر خرابی نئے آنے والوں کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے اور نئے آنے والوں کے لئے تقویٰ کا ماحول مہیا نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔پس فرمایا: اُمت میں لوگ آتے ہیں جو نو راور صدق اور وفا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے کوئی شخص اپنے آپ کو ان قومی سے محروم نہ سمجھے۔کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی فہرست شائع کر دی ہے جس سے سمجھ لیا جائے کہ ہمیں ان برکات سے حصہ نہیں ملے گا۔خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور جس کو تلاش کرنے والا اور طلب کرنے والا کبھی محروم نہیں رہا۔اس لئے تم کو چاہئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دعا کے لئے کئی مواقع ہیں۔رکوع، قیام، قعدہ ( یعنی التحیات کی شکل میں جو بیٹھتے ہیں۔) سجدہ وغیرہ پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔فجر ، ظہر ، عصر ،مغرب اور عشاء اور ان پر ترقی کر کے اشراق پر تہجد کی نمازیں ہیں یہ سب دعا ہی کے لئے مواقع ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه 233 234 ) اب دیکھیں تقویٰ کی بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تان نمازوں پر توڑی ہے۔یہ آپ جانتے تھے کہ تقویٰ کی اعلیٰ حالت کا نام بھی نماز ہے اور تقویٰ کو نماز سے الگ کیا جاہی نہیں سکتا۔یہ خوش فہمی کہ ہم متقی ہیں جبکہ ہم اپنی نمازوں سے غافل ہیں محض ایک غلط فہمی ہے۔خوش فہمی بھی ایسی جو بعض دفعہ ہلاکت کا موجب بن جاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کے ساتھ تقویٰ کو ملا کر فرماتے ہیں: ور حقیقی راحت اور لذت کا مدار تقویٰ پر ہے۔“