خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد 16 877 خطبہ جمعہ 28 /نومبر 1997ء رہتی ہے اور ہمیشہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس ہے: غرض یہ قومی جو انسان کو دئے گئے ہیں اگر وہ ان سے کام لے تو یقیناً ولی ہوسکتا ہے۔“ بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے کہاں ولی بننا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس ان لوگوں کے لئے خصوصیت سے اہمیت رکھتا ہے جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں جی ہم نے کون ساولی بننا ہے۔کئی دفعہ ان کو چھوٹی بات پر ٹو کو کوئی جھوٹ بول رہے ہوں، کوئی فضول بات کر رہے ہوں تو کہتے ہیں جاؤ جاؤ ہم نے کون سا ولی بنا ہے۔گو یا ولایت ان کی پہنچ سے باہر ہے اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ متقی ہوتے تو ولایت ان کی پہنچ سے باہر نہ ہوتی۔وہ عملاً یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کون سے متقی ہیں، ہم کون سے خدا کا خوف رکھنے والے ہیں کہ ہمارے لئے ولایت کی منزل مقدر ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ وہ اہم مضمون ہے جس کو جماعت کو سمجھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمارہے ہیں: غرض یہ قومی جو انسان کو دئے گئے ہیں اگر وہ ان سے کام لے تو یقیناً ولی ہوسکتا ہے۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس امت میں بڑی قوت کے لوگ آتے ہیں جو نور اور صدق اور وفا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے کوئی شخص اپنے آپ کو ان قومی سے محروم نہ سمجھے۔“ یہ جو فرمایا کہ بڑے لوگ آتے ہیں جو بڑی قوت کے ساتھ ہر قسم کی صلاحیتیں لئے ہوئے آتے ہیں نور اور صدق اور وفا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ جب انسان ایک صداقت قبول کرے تو بہت حد تک آنے والا صدق اور وفا سے مزین ہوا کرتا ہے، بہت حد تک آنے والے نے چونکہ ایک غیر معمولی قربانی پیش کی ہوتی ہے سارے معاشرے کو اپنے خلاف کیا ہوتا ہے اس لئے اس وقت اس کے صدق میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور وہ وقت ہوتا ہے کہ اس کے قومی کو مزید روحانی ترقی مل جائے۔مگر وہ ایسی جماعت میں آ جاتا ہے جہاں وہ یہ باتیں سنتا ہے کہ ہم نے