خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 859
خطبات طاہر جلد 16 859 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997ء جیسے اثر دہا میں ایک سم قاتل ہے اسی طرح نفس امارہ میں بھی سم قاتل ہوتا ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه : 96) اب یہ حالتیں اس قسم کی نہیں ہیں جو دنیا کے بعض صوفی آپ کو سکھاتے ہیں اور پڑھاتے ہیں کہ یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔ان حالتوں میں ایسی گہری حقیقتیں ہیں کہ ادنی سا بھی مبالغہ ان میں نہیں پایا جاتا۔یہ نہیں فرمایا کہ وہ نور اترے گا تو ہمیشہ کے لئے تمہاری زندگی فوراً سنور جائے گی فرمایاوہ نور جب جب اترے گا نفس امارہ کی کسی شوخی کو بھسم ضرور کر دے گا۔ہے۔وہ پس اگر متقی نماز پڑھتے ہوئے جیسا کہ نماز کا حق ہے آگے بڑھتا ہے تو اس کی نمازوں میں ہمیشہ اس کو محسوس ہوگا کہ کبھی آگے بڑھنے کا ایک ایسار جحان ملتا ہے کہ جیسے سفر میں کوئی قدم آگے بڑھا دیا جائے اور گناہ پیچھے رہ جاتے ہیں لیکن سب گناہ یا سب گناہوں کا رجحان بیک وقت پیچھے نہیں رہتا بلکہ بعض گناہوں کا رجحان پیچھے رہ جاتا ہے اور گناہوں کی خواہش میں ایک کمی سی آجاتی خواہش مرجھانے لگتی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ایک عارف باللہ کے کلام کے سوا آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ایسی باریکی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی روح کے آغاز کا مطالعہ کیا ہے کہ اس مطالعہ کے ساتھ آپ کو دوسرے لوگوں کی روح کے مطالعہ کا علم ہو گیا یعنی ضروری نہیں ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک آپ کا سفر نفس امارہ کی شوخیوں سے ہومگر ہر دعا گوانسان جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنی پہلی حالت کے خلاف خدا سے مدد چاہتا ہے اور جب وہ مدد چاہتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ مدد ایک نور کے شعلے کی طرح اس پر گرتی ہے اور اس کی پہلی حالت جس سے وہ نجات چاہتا ہے اس میں فرق آجاتا ہے۔پس ضروری نہیں کہ انبیاء یا اولیاء اللہ اپنے گناہوں کے متعلق نفس امارہ کے غلام ہوں اور پھر ان سے نجات پائیں۔ہر شخص کا نفس کچھ نہ کچھ پیغام اسے ضرور دے رہا ہے۔جب انبیاء حوالہ دیتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ نسبتا کم ، بہت کم، اتنا کم کہ بعض دفعہ دیکھنے والے کو محسوس بھی نہیں ہوسکتا لیکن انبیاء کو خود دکھائی دیتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس حالت سے مزید ترقی کریں۔پس ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا ہے جو عامتہ الناس کے ساتھ ہوتا ہے لیکن جس شخص نے اپنی ان منازل کو غور سے