خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 858
خطبات طاہر جلد 16 858 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء گریہ وزاری کی کوشش کرے اور اپنے اوپر ایک قسم کا خوف طاری کرے۔یہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کی روح خود بخود پکھل کر نہیں گرتی۔اور تضرع سے مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔اسی قسم کی نماز با برکت ہوتی ہے اور اگر وہ استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے۔اب جو بیان بہت مشکلات کا بیان دکھائی دیتا تھا، لگتا تھا کہ انسان میں طاقت ہی نہیں ہے کہ اس چیز کو حاصل کر لے اس بیان کو آسان کرنے کی خاطر صبر اور وفا اور استقامت کا سبق دے رہے ہیں۔فرماتے ہیں تمہیں وہ رقت نصیب ہو یا نہ ہو جو طبعی حالت کا نام ہے جو رقت اپنی ذات میں بے انتہا لذت رکھتی ہے اگر نہ بھی نصیب ہو تو کوشش کرتے رہو۔کوشش کر کے خواہ تصنع سے اپنے چہرے کو ایسا بناؤ گویا وہ رو رہا ہے۔منتیں کرو، جو کچھ بھی ہو مسلسل جدو جہد کرتے رہو۔یہ حالت رفتہ رفتہ نہیں بدلے گی ایک ایسا وقت آئے گا کہ خدا کو رحم آئے گا اور خدا سے مدد مانگنا اس لئے ضروری ہے۔اپنے طور پر انسان اس حالت کو پاسکتا ہی نہیں۔ہاں جب اللہ دیکھتا ہے اور اپنے بندے کو ایسی بے قراری اور انکساری کی حالت میں پاتا ہے کہ اسے کچھ بھی نصیب نہیں ہورہا پھر بھی دعا نہیں چھوڑتا اس کا صبر کسی مقام پر آکر ختم نہیں ہوتا مسلسل جاری رہتا ہے۔اس وقت فرمایا اچانک آسمان سے ایک شعلہ نو را ترتا ہے اور یہ وہ حالت ہے جو ہر دنیوی حالت کو خاکستر کر دیتی ہے۔وو دیکھے گا کہ رات ہو یا دن ہو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اب رات فرمایا تو رات کی عبادتیں مراد ہیں، دن کو بھی دن کی عبادتیں مراد ہیں اور نور کے متعلق فرما دیا کہ اس کا تعلق نہ رات سے ہے نہ دن سے ہے۔دن کو بھی نور ہی رہے گا اور رات کو بھی نور ہی رہے گا۔ایسا نور ہے جو صرف تمہاری راتوں ہی کو نہیں تمہارے دنوں کو بھی روشن کر سکتا ہے۔اور نفس امارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے۔اب یہ آغاز ہے اس کی ترقیات کا۔نماز میں جب یہ نور گرتا ہے تو ہر وقت جو انسانی نفس اس کو احکامات دے رہا ہے کہ یہ برائی کرو، وہ برائی کرو، یہ شوخی کم ہو جاتی ہے۔نفس امارہ پھر اس جرات سے اسے برائیوں کی طرف نہیں کھینچتا۔