خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 857

خطبات طاہر جلد 16 857 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997ء کیونکہ ایسے پر شکستہ اور بے طاقت ہیں کہ گرتے پڑتے بھی اس طرف سفر کریں ،سفر بہت دراز ہے، بہت لمبا اور دور کا سفر ہے اور وہ ممات اور حیات والی حالت جو میں نے بیان کی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عبارت کے آخر پر رکھا ہے یہ حاصل کرنی بہت مشکل ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے بعد اس مضمون کو نسبتاً آسان کرنے کی خاطر ، اس سفر کو نسبتاً آسان کرنے کی خاطر فرماتے ہیں: خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاء وقدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو ہرگز رہائی نہیں ہوتی۔نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ بچی نماز ہرگز نہ ہوگی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔نماز وہ شے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔خوفناک حالت ، یوں لگتا ہے کہ وہ حالت بڑی خوفناک ہے لیکن مراد یہ نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر خوف طاری ہو جائے اور پھر بے اختیار گر پڑے اسے خوفناک حالت بیان فرمایا گیا ہے۔روح پکھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔وو جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں“۔اب ایک طرف تو روح پکھل رہی ہے خوف میں اور دوسری طرف یہ بیان بھی ہے کہ جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔وہ پہلا روح کا پگھلنا ان عارف باللہ لوگوں کا بیان ہے جن کو یہ حالت نصیب ہو جاتی ہے لیکن ہر انسان کو یہ حالت نصیب نہیں ہوتی۔ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ یہاں بھی بیان فرمایا ہے ” اسلامی اصول کی فلاسفی میں بھی یہی بات بیان فرمائی ہے کہ اگر تم پر رقت طاری نہیں بھی ہوتی تو کوشش کر کے چاہے بناوٹ کرنی پڑے، اگر کوئی بناوٹ جائز ہے تو یہاں بھی جائز ہے کہ تکلف کر کے بھی اللہ کے حضور