خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد 16 855 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء طرف توجہ نہیں کرسکتا۔پس اگر اس لئے دعا کرے، یہ کہتے ہوئے التجا کرے کہ اے میرے اللہ میری مشکلات نے مجھے گھیر لیا ہے، میں جب کھڑا ہوتا ہوں یہ بلائیں مجھے چمٹ جاتی ہیں اور مجھے تیری طرف اپنے دماغ کو خالصہ وقف کرنے کی توفیق نہیں دیتیں۔اگر اس نیت سے انسان اپنی حاجات خدا سے مانگے گا تو لازماً حاجات تو ملیں گی ہی لیکن اس کا یہ حاجات مانگنا بھی ایک عبادت بن جائے گا کیونکہ عبادت کی خاطر وہ یہ دعائیں مانگتا ہے کہ مجھے دنیا کے جھنجھٹوں سے اس حد تک آزاد کر دے کہ یہ میرے ذہن پر سوار نہ رہیں۔جب میں عبادت کے لئے کھڑا ہوں تو مجھے چمٹ نہ جایا کریں تا کہ میرا ذ ہن تیری عبادت کے لئے فارغ ہو جائے۔یہ لطیف مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون سے نکالا ہے۔پھر فرماتے ہیں: خاص خامی اور کج پینے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔۔۔دوسری بات ایک اور بہت ہی عزیز ، بہت دلچسپ فرماتے ہیں کہ اس لئے بھی دنیوی امور میں دعا کرنا منشاء الہی کے ہمیشہ خلاف نہیں ہوتا کہ اگر یہ دعا نہ کی جائے تو وہ سالک جو ابھی ابتدائی منازل پر ہے بعض دفعہ یہ دنیوی امور اور ان کے مسائل اس کے لئے ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کو ہماری پر واہ ہی کوئی نہیں۔پس اگر اس وجہ سے خدا سے التجا کی جائے کہ وہ ان ابتدائی ٹھوکروں سے بھی انسان کو نجات بخشے اور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ میرا ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے۔ایسی صورت میں یہ دعا جو ہے یہ عبادت والی دعا بن جائے گی۔صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنی پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گزارش دعا میں پیدا ہونی چاہئے اب یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد یہ سوز کی بات فرمائی گئی ہے کہ سوز پیدا کرنا بندے کے اپنے بس کی بات نہیں ہے لیکن ایک ایسا موقع بیان فرمایا جس موقع کا سوز سے تعلق ہے۔اگر ایک انسان کو مشکلات گھیر لیں اور اس کے نقصانات ایسے ہوں کہ جو بعض دفعہ ساری زندگی کو اداس کر دیتے ہیں۔کسی قریبی کسی پیارے کی موت ہے جو ایک دفعہ واقع ہو گئی مگر ساری عمر اس کے بعد پیچھے رونا پیٹنا چھوڑ دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس سوزش کا ذکر کیا ہے کہ وہ دعا میں