خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد 16 854 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997ء لئے ہونی شروع ہو جاتی ہے جس حد تک اس کے دن رات خدا کے لئے مقدر ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔“ یہ یاد رکھنا چاہئے آپ سب کو کہ کتنا وقت روزانہ نا معقول باتوں میں صرف ہوتا ہے اور کتنا معقول باتوں میں۔) اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔“ اگر انسان اس بات سے ڈر جاتا ہے کہ اگر دنیوی حاجات کے لئے دعا کرنا میری عبادت نہیں ہے اور اس میں مخل ہے تو پھر میں حاجت روائی کس سے کروں، کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤں کہ وہ میری حاجتیں پوری کرے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ہر دروازہ کلیۂ بند کر دیا ہے اور ساتھ ہی خدا کا دروازہ بھی بند کر دیا ہے کہ اس دروازے پر اپنی حاجات لے کر نہ جاؤ یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے اس عبارت کو نہ سمجھنے سے جس کا ازالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود فرمار ہے ہیں۔فرماتے ہیں: اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں۔۔۔کیسا لطیف مضمون ہے جس نے دو مسئلے حل کر دئے۔ایک دنیوی ضروریات کو دور کرنے کی وجہ بتا دی دوسرے اس دعا کے ساتھ ہی ملا دیا جو مقبول دعا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔یہ ایک بار یک مضمون ہے جسے مجھے کھولنا پڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا کے حضور اپنی ضروریات لے کر جانے کی اس حالت میں اجازت ہے کہ پہلے اس کی رضا کو حاصل کریں۔اگر رضا کو حاصل کر کے پھر ایسا کرتا ہے تو اس میں ایک حکمت ہے کیوں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔اس لئے کہ دنیوی مشکلات اور مصائب اس کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور وہ خدا کی