خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد 16 80 80 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء عقیدہ رہ ہی نہیں سکتے۔اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں اشارۃ میں نے آپ کو بتا دیا ہے یہ موقع ہے اس کا سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا کہ اللہ جو ہر عیب سے پاک ہے اس کی طرف کوئی جسمانی حرکت ممکن نہیں ہے۔جہاں جسم نے ایک جگہ چھوڑی اور خدا کی طرف جانے کے نام پر دوسری جگہ گیا وہاں کا ئنات بعض جگہوں میں خدائی سے خالی ہوگئی۔پھر باغ والے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ باغ والے بد نصیب جو منہ اندھیرے جاتے تھے باغ میں تاکہ غریب لوگ حصہ نہ پالیں۔وہ جو اپنے باغ کو دیکھ کر اپنی حمد کے گیت تو گاتے تھے کہ ہم نے بڑا کمال کر دیا مگر استغفار نہیں کرتے تھے اور جب یہ کہتے تھے کہ ہم یہ فصل حاصل کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ کا حوالہ نہیں دیتے تھے کہ اگر چاہے گا تو ہم حاصل کر لیں گے، جب وہ ایک صبح اپنے باغ میں پہنچے تو دیکھا کہ وہ سارا باغ کٹا پڑا ہے اور اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ایسی کوئی آسمانی آفت وہاں پھر گئی جیسے خوفناک بعض دفعہ بگولے فصل کو تباہ کر دیتے ہیں۔جو بھی آسمانی آفت کا حال تھا اس نے صبح تک کچھ بھی باغ کا باقی نہیں چھوڑا، تمام باغ زمین پر گرا ہوا پڑا تھا یا تمام فصل کٹی پڑی تھی۔اس پر پھر آخری طور پر جب انہوں نے تو بہ کی طرف رجوع کیا تو سورہ القلم میں یہ ان کے حوالے سے بیان ہے۔قَالُوا سُبُحْنَ رَبَّنَا إِنَّا كُنَّا ظُلِمِينَ (القلم: 30) انہوں نے کہا پاک ہے ہمارا رب ہم ہی تھے جو ظلم کرنے والے تھے گویا ہم نے اپنے ظلم کا نتیجہ دیکھا ہے، خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہم پر ظلم نہیں ہوا۔اور حضرت موسیٰ" کے متعلق بھی اس سے ملتے جلتے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔جب آپ نے خدا تعالیٰ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے اپنا چہرہ دکھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مجھے نہیں دیکھ سکتا جہاں تک جسمانی آنکھ کا تعلق ہے تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ایسی ہی بات جیسے خدا کی طرف جسمانی طور پر عروج ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی لطافتیں اس نوع کی ہیں کہ نہ جسم ایک جگہ سے حرکت کر کے دوسری جگہ خدا کے قریب ہو سکتا ہے نہ نظر اس کو دیکھ سکتی ہے کیونکہ وہ لطیف سے لطیف تر ہے۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی سادگی میں جیسا کہ ان کی ساری زندگی اس قسم کے سادہ بے تکلف سوالات سے بھری پڑی ہے اللہ تعالیٰ سے جو ان کا رشتہ ہے خاص انداز کا ہے تو انہوں نے کہا میں نے دیکھنا ہے تجھے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں اگر تیرا اصرار ہے تو میں پہاڑ پر اپنی ایک