خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 79

خطبات طاہر جلد 16 79 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں جس کی طرف میں جا سکوں جس سے میں سہارا مانگ سکوں سُبْحَنَک شرک کی نفی سبحان کے مضمون کو چاہتی ہے۔پس فرمایا تو ہر ستم کے شرک سے پاک ہے، ہر قسم کے عیب سے پاک ہے اِنّى كُنتُ مِنَ الظَّلِمِینَ میں ہی تھا جو ظالموں میں سے تھا۔پس دیکھیں بخشش طلب کرنے کے لئے انبیاء نے بھی کیسے کیسے طریق ڈھونڈے کیسی کیسی ادا ئیں اختیار کیں جن کے نتیجے میں انسان کا دل دہل جاتا ہے اور سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ بخشش نہیں فرمائے گا۔پس ان دعاؤں کو اپنے پیش نظر رکھیں اس رمضان میں۔یہ محض مثالوں کے طور پر نہیں بیان کر رہا ، میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ ان دعاؤں سے جتنے بھی دن رمضان کے باقی ہیں جتنی را تیں بھی رہتی ہیں ان میں ان دعاؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی بخشش کے سامان کی کوشش کریں۔پھر بنی اسرائیل میں ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً (الاسراء: (94)۔آنحضرت اللہ سے جب یہ تقاضے کئے گئے کہ تو بھی آسمان پر چڑھ اور اتر اس حالت میں کہ تیرے ہاتھ میں کتاب بھی ہو۔اگر تو آسمان پر چڑھ کر دوبارہ اتر کے ہمیں نہیں دکھائے گا تو ہم نہیں مانیں گے کہ تو خدا کا رسول ہے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آنحضرت صلى الله کو مضمون سمجھایا اور کہا ان کو یہ جواب دے قُل سُبْحَانَ رَبّی کہہ دے کہ میرا رب ہر عیب سے پاک ہے۔هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّ سُولًا اور میں تو محض ایک بشر اور رسول ہوں۔اس پہلو سے اگر میں بشر اور رسول ہوتے ہوئے تمہارا تقاضا پورا کروں تو یہ خدا پر رعیب ڈالنے والی بات ہے۔پس یہ تصور کہ کوئی انسان بشر بھی ہو اور رسول بھی ہو زندہ جسم سمیت آسمان پر چڑھ جائے یہ خدا تعالیٰ کو عیب دار کرنے والی بات ہے کیونکہ جسمانی عروج کئی طرح سے خدا میں عیب ڈالتا ہے۔یہ بھی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ یہاں نہیں ہے، وہاں ہے جہاں جسم حرکت کر رہا ہے خدا تعالیٰ کی ہمہ گیری پر حرف آ جاتا ہے۔جہاں سے حضرت عیسی" جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے انہوں نے حرکت شروع کی کیا خدا وہاں نہیں تھا۔اگر تھا تو پھر اوپر کیا کرنے جا رہے تھے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف جسمانی حرکت ممکن ہی نہیں جہاں جسمانی حرکت کا تصور اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ آپ باندھیں گے وہیں خدا کی خدائی ختم ہو جائے گی اور بیک وقت خدا پر یقین اور اس کی طرف جسمانی حرکت کا