خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 852
خطبات طاہر جلد 16 852 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997ء ایک تقابل کیا گیا ہے۔نماز میں لذت پانے کے ساتھ۔جونہی انسان نفسانی لذتوں میں مبتلا ہوگا روحانی لذتیں کم ہوتی جائیں گی۔پس فرمایا کشاکش نفس کی لذتوں سے نجات پائے بغیر فی الحقیقت نماز کی لذت نصیب نہیں ہو سکتی اور اگر نماز کی لذت نصیب نہ ہو تو نماز بلند تر روحانی مدارج تک نہیں پہنچا سکتی۔و کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتا ہے۔“ حضرت اقدس مزید فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد چہارم صفحه : 605) ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوٰۃ میں اور دعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ الصلوةُ هي الدعاء۔الصلوة مخ العبادة یعنی نماز ہی دعا ہے، نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں ہے۔یہ معنی ہیں اس حدیث کے جواکثر لوگوں کو سمجھ نہیں آتے کہ الصلوۃ مخ العبادة الصلوة هي الدعاء اگر عام معنی لئے جائیں تو مراد ہے کہ دعا کر لو تو نماز پڑھ لو ایک ہی بات ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس غلط نہی کا ازالہ فرماتے ہیں یہ کہہ کر کہ : ” جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلو نہیں ہے 66 اور وہ نماز میں بھی ہو تو اس نماز کا نام صلوۃ نہیں ہے اور نماز کی اعلیٰ سے اعلیٰ حالت میں بھی الله ہو تو جب تک وہ دنیوی امور کے لئے دعا ہے اس کا نام الصلوۃ نہیں ہے۔حضرت رسول اللہ ﷺ نے جس دعا کا نام الصلوۃ رکھا ہے وہ دعا اللہ کی رضا چاہنے کی دعا ہے، ہمیشہ اس کو طلب کرنے کی دعا ہے اور اسی طرح اگر یہ حالت ہمیشہ طاری رہے تو ہمیشہ انسان نماز میں ہوتا ہے۔بعض فقراء یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم تو ہر وقت نماز میں ہیں اور حالت یہ ہے کہ گندے لغو کلمات ان کے منہ سے جاری ہوتے ہیں، دنیا کی باتوں میں وہ کھوئے رہتے ہیں اور ہر قسم کی خودسری کے نمونے دکھاتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ ہم تو بس نماز کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔بعض فقیر ایسے ہیں جو نہایت گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور لوگ جو ان فقیروں کی عبادت کرتے ہیں