خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد 16 849 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے ( خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 1997ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ چند خطبات میں نماز کے تعلق میں میں نے کچھ باتیں بیان کی ہیں اور اسی تعلق میں اسی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ گزشتہ اقتباس میں میں نے یہ گزارش کی تھی کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں سُبحانَ مَن یرانی آپ اس بات کو ضرور نماز میں ہمیشہ ملحوظ رکھیں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے لیکن حدیث کے جو اصل الفاظ ہیں جیسے کہ بخاری میں ہیں اس میں پہلے یہ ذکر ہے کہ گویا تو خدا کو دیکھ رہا ہے اگر نہیں تو پھر یا د رکھ کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس شعر میں اور اس مضمون میں فی الحقیقت تضاد نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کی طرز ایسی ہے کہ تو اسے دیکھنے کی کوشش کرور نہ یادرکھ کہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس معنی میں اگر آپ نہ کروہ تو رہا اُس مضمون کو سمجھیں تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ کہنے میں کہ وہ ہمیشہ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس حدیث کے الفاظ میں ہرگز کوئی تضاد نہیں۔ غور سے علماء پھر پڑھ کے دیکھ لیں ان کو غور کے بعد یہی بات سمجھ آئے گی کہ ایک کوشش کی طرف حدیث متوجہ کرتی ہے کہ کوشش کر کہ تو اسے دیکھ جو بہر حال تجھے دیکھ رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کہنا کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے پہلے