خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 846 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 846

خطبات طاہر جلد 16 846 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء محبت ہو جاتی ہے اور اس کو نماز کے کھڑے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اس لئے کہ وہ نماز اس کی کھڑی ہی ہوتی ہے اور ہر وقت کھڑی ہی رہتی ہے۔اس میں ایک طبعی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 605،604) یہ پہچان ہے جو بہت ہی ضروری ہے۔ہر انسان کی مرضی ہمیشہ خدا کے موافق نہیں ہوا کرتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا عارفانہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ ہمیں اپنی نمازوں کی پہچان کی چابی پکڑا دی اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کی پہچان سمجھا دی۔فرمایا اس محبت کی پہچان یہ ہے کہ انسان کی مرضی خدا کی مرضی کے تابع ہو جاتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو ہر عاشق سمجھ سکتا ہے جس نے کبھی بھی عشق کیا ہو۔وہ چیزیں جو دوسروں میں اس کو بری لگتی ہیں اگر اپنے محبوب میں وہ چیز پائے تو ویسے ہی بننے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی رضا کی نظر اس کی رضا کی نظر بن جاتی ہے۔یہ تجربہ سچے عشاق ہی کو نصیب ہو سکتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو محبت میں خامی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت کی پہچان یہ سمجھا دی کہ آپ کی روزمرہ کی رضا ہمیشہ اس کے مطابق ہو۔اگر مطابق ہوگی تو آپ کی ساری زندگی نماز بن جائے گی۔نماز کی حالت میں اجنبیت پیدا ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ رضائے باری تعالیٰ آپ کی اپنی رضا بن گئی ہے اور اس رضا کا نام مقبول نماز ہے۔اس پر آپ غور کر کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ زندگی بھر جس کو اپنے محبوب کی رضا پر چلنا آ گیا ہو وہ اس کے سوا اور کیا چاہے گا۔کیسے وہ چیزیں اس کی توجہ محبوب سے ہٹا ئیں گی جو دنیا کی مجبوریاں بھی ہوا کرتی ہیں۔مگر وہ توجہ نہیں ہٹایا کرتیں۔اگر بھوک لگتی ہے تو آپ کھانا کھا ئیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کھانا کھانے کو جو حلال اور طیب ہے اللہ نے اپنی رضا کی چادر پہنادی ہے۔اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا مضمون اس طرح بھی سمجھ آ جاتا ہے کہ ہماری بعض مادی خواہشات کو اللہ تعالیٰ نے کلیۂ نظر انداز نہیں فرما دیا کہ ایسے میرے لئے فقیر ہو جاؤ کہ تمہیں اپنی ذات کی کوئی ہوش ہی نہ رہے۔ہماری ساری ذاتی زندگی کو خدا تعالیٰ اپنی محبت کے تابع پھر بحال فرما دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس طرح تم اپنی زندگی گزارو کہ تمہاری ساری زندگی میری رضا بن جائے اور لذت