خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 842

خطبات طاہر جلد 16 842 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء کامل ہو جاتے ہیں کہ نماز ان کے لئے بمنزلہ غذا ہو جاتی ہے۔“ تو آپ نے دیکھا کلام مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔کس طرح بیچ میں اللہ تعالیٰ اس غیب کے ذریعے سے انہیں وہ مقام عطا کرتا ہے یعنی پہلے جو تقویٰ کی حالت تھی وہ ایک غیب کے ایمان کے ذریعہ قائم رہی اور اس غیب کی حالت کو پھر تبدیل کر کے پھر خدا حاضر ہو جاتا ہے اور جب خدا اس غیب کو حاضر میں بدل دے وہ حالت ہے جو ہمیشہ کے لئے اس کے سامنے اس کے حضور میں قائم رہتی ہے کبھی کسی لحہ پھرمٹتی نہیں ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پڑھتے ہوئے کہ وہ اندھے مولوی جو اس کلام کے سقموں کی تلاش میں عمریں ضائع کر دیتے ہیں ان کو دکھائی نہیں دیتا کہ یہ ایک عارف باللہ اور کامل عارف باللہ کا کلام ہے جو آنحضرت مہ کے نقش قدم پر اس طرح چلتا ہے کہ سر مو بھی احتراز نہیں کرتا، کہیں کوئی فرق نہیں کرتا۔ر بعض آدمی ایسے کامل ہو جاتے ہیں کہ نماز ان کے لئے بمنزلہ غذا ہو جاتی ہے اور نماز میں ان کو وہ لذت اور ذوق عطا کیا جاتا ہے جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی پینے سے حاصل ہوتا ہے۔“ یہ ذوق ہر کس و ناکس کو اپنی نمازوں کو سنوارنے کے دوران نہیں ملا کرتا۔ہاں کبھی کبھی واقعہ نماز ، یوں لگتا ہے جیسے ٹھنڈا پانی پی کر اپنی پیاس بجھائی جارہی ہو۔وہ اضطرار کی حالت کی نمازیں بھی ہوتی ہیں اور اس کوشش کے دوران بعض دفعہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی رحمانیت کا ایسا جلوہ دکھاتا ہے اور اس کے احسانات کی طرف انسان کی توجہ اس طرح پھر جاتی ہے کہ اس وقت واقعہ نماز ، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی سخت پیاسے نے بہت ٹھنڈے پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا ہے اور وہ ختم کرنے کو دل نہیں چاہتا۔جب ایک دفعہ سیری ہو جائے تو پھر دوبارہ اس کی پیاس بھڑک اٹھتی ہے پھر سیری ہو جائے پھر اس کی دوبارہ پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی پینے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ نہایت رغبت سے اسے پیتا ہے اور خوب سیر ہو کر حظ حاصل کرتا ہے یا سخت بھوک کی حالت ہو اور اسے نہایت ہی اعلیٰ درجے کا خوش ذائقہ کھا نا مل جاوے جس کو کھا کر وہ بہت خوش ہوتا ہے۔یہی حالت پھر نماز میں ہو جاتی ہے۔وہ نماز