خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد 16 841 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء یعنی وہ انسان جو عمر بھر یہ کوشش کرے گا اس کی عمر میں کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ساری کوششیں اس کے ماضی کی ایک بھیانک خواب بن جاتی ہیں اور اس خواب کی بہترین تعبیر ظاہر ہوتی ہے یعنی بقیہ زندگی پہلی زندگی سے ایک بالکل مختلف زندگی ہو جاتی ہے۔وہ وقت ہے جب کہ نماز میں لذت آتی ہے۔اب میں آپ کو اس ضمن میں یہ بات سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ نماز میں لذت گرتی ہوئی حالت میں بھی آجاتی ہے اور وہی لذت ہے جو بڑھتے بڑھتے بالآخر اس حالت پر پہنچ جاتی ہے کہ صرف لذت ہی رہ جاتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ انتظار نہ کریں کہ نماز کو کھڑا کر رہے ہیں اور کبھی لذت محسوس نہ ہو اور سمجھیں کہ آخر لذت آ جائے گی ، یہ جھوٹ ہے۔نماز کو اللہ تعالیٰ مختلف وقتوں میں انسان کے لئے لذت کا موجب بنا تا رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لقمے ہیں جو کھلائے جاتے ہیں تو انسان میں لذت پڑتی ہے۔اگر بارہا یہ لقمے نہ کھلائے جائیں تو ایسے انسان کی کوششیں وہ سمجھتا بھی ہو کہ کامیاب ہیں حقیقت میں اکارت جائیں گی۔نماز کو کھڑا کرنے کے دوران آپ کو وہ لذت محسوس ہونی چاہئے جو انسان کو اس وقت ہوتی ہے جب اس کا خیمہ جھکڑ چلنے کے نتیجے میں گر جاتا ہے اور پھر وہ اس کو کھڑا کر کے کچھ دیر اس میں آرام کرتا ہے۔وہ آرام کی حالت لازماً اس تجربے کے دوران محسوس ہونی چاہئے اور یہ حالت بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ گرا ہوا خیمہ ایک دفعہ کھڑا ہوتا ہے پھر دوبارہ ، پھر دوبارہ یہاں تک کہ انسان اسے اور زیادہ مضبوط رسوں سے باندھتا ہے اور مضبوط میخوں سے زمین میں گاڑتا ہے تب وہ خیمہ ہمیشہ کے لئے اطمینان کا موجب بن جاتا ہے اور بیرونی مصائب سے بچالیا جاتا ہے۔پس اپنی نماز کو بار بار کھڑا کریں اور امید رکھیں کہ بالآخر ہمیشہ کے لئے آپ کونماز میں لذت اور طمانیت نصیب ہوگی۔مگر اس سے پہلے وہ آثار ضرور ظاہر ہوں گے جن کو دیکھ کر آپ کہہ سکتے ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ میں اب خدا کے فضل کے ساتھ کامیاب ہو جاؤں گا۔فرمایا: ” یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کے ذریعہ ہدایت عطا کرتا ہے۔اس کی ہدایت کیا ہوتی ہے؟ اس وقت بجائے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ اس کشمکش اور وساوس کی زندگی سے نکل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس غیب کے ذریعہ انہیں وہ مقام عطا کرتا ہے جس کی نسبت فرمایا ہے کہ بعض آدمی ایسے