خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد 16 835 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء سے کلیۂ پاک رہتے ہوئے اللہ کی خاطر، بنی نوع انسان کی ہدایت کی خاطر ایسا طریق کار اختیار کیا جائے کہ لوگ احمدیت سے ڈر کر نہ بھا گیں۔یا اگر یہ دعا بھی ساتھ کی جائے کہ ان کے دلوں کے خوف خدا دور فرما دے، وہ بھی بے دھڑک ہو کر آگے بڑھیں اور اگر شہادتیں پہلے احمدیوں کے مقدر میں ہیں تو وہ بھی شہادت کے لئے اپنے آپ کو کھلم کھلا آمادہ پائیں اور دل میں اس کے لئے جوش رکھیں۔ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں۔چنانچہ کئی نو احمدی شہید ہوئے ہیں جن کے علم میں تھا کہ یہ جرم یعنی اللہ تعالیٰ کی بات کو ماننے کا جرم لوگوں کی نگاہ میں ایسا بھیانک ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض انسانوں کو جانیں کھو دینی پڑتی ہیں۔یہ جانتے ہوئے ، اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہ ہاں یہ رستہ کٹھن ہے انہوں نے پھر بھی اس دعا کی التجاء کے ساتھ خط لکھے کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس راہ میں شہید ہونے کی توفیق بخشے۔پس یہ نئے نئے سلسلے چل پڑے ہیں، نئے نئے طریق پر روحیں بیدار ہو رہی ہیں۔عمومی طور پر تو یہی دعا ہے جو ہمیں پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اے اللہ ہمیں حکمت کے ساتھ خدمت کی توفیق عطا فرما۔ایسی حکمت کے ساتھ لوگوں کو اپنی راہ کی طرف بلانے کی توفیق عطا فرما کہ اس کے نتیجے میں لوگ جوق در جوق آئیں اور ان کی راہیں روکی نہ جاسکیں۔یہی دعا ایک کامل دعا ہے میرے نزدیک، اس پہلو سے کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا کام جاری رہے گا اور بزدلی پیدا نہیں ہوگی۔نماز کے تعلق میں جیسا کہ میں نے عرض کیا بہت سے احباب خط لکھ رہے ہیں ، بہت سے بچے بھی خط لکھ رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ایک ولولہ سا پیدا ہو گیا ہے جماعت میں اور یہ دور جو ہے وہ آئندہ بہت ہی بابرکت ادوار کو جنم دے گا ، ان کو پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔ابھی بھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو شمار نہیں کر سکتے۔جب دیکھتے ہیں تو فی الحقیقت روحیں خدا تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔ایسا سجدہ جو روح کی پاتال تک خدا سے مطمئن ہونے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔اللہ سے ہر انسان کو مطمئن تو رہنا چاہئے لیکن بعض دفعہ زبانی اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ روح اپنے پاتال تک، اپنی آخری انتہاء تک خدا تعالیٰ سے راضی ہو جاتی ہے۔اسی کو رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفحر: 29) کے لئے مقدر کیا جاتا ہے۔اب حالات ایسے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی رضا اس طرح کثرت کے ساتھ احمدیوں کو اور احمدیوں کے دلوں کو اپنی لذت سے مغلوب کر رہی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ اور بہت سی