خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 78
خطبات طاہر جلد 16 78 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء کی صفات حسنہ جو حد سے تعلق رکھتی ہیں ان کا تصور باندھ سکے یا حقیقیہ حمد کرنے کا اہل بن سکے۔پس ہر گناہ کے بعد جو بخشش کا مضمون قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہاں سبحان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شرک سے پاک ٹھہرانے کے تعلق میں بھی ہمیشہ سبحان کا لفظ استعمال ہوا ہے چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آل عمران : 192 میں ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ جب خدا کے پاک بندے اس کا ذکر کرتے ہیں اس پر غور کرتے ہیں اور کائنات پر اس کی یاد کے ساتھ غور کرتے ہیں تو بے اختیار ان کے دل سے آواز اٹھتی ہے۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا اے ہمارے رب تو نے اس کا ئنات کو باطل پیدا نہیں کیا، بے مقصد اور ناحق پیدا نہیں فرمایا۔سُبحنک کائنات پر غور ہمیں بتاتا ہے کہ تو ہر عیب سے پاک ہے فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ پس ہماری بخشش فرما۔یہ مضمون ہے ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے یعنی ہمیں بخش دے ہماری کمزوریاں دور فرما دے جیسا کہ تو عیوب سے پاک ہے ہمیں بھی پاک کرتا کہ ہم آگ کے عذاب سے بچ سکیں۔یہ بات خوب کھل جاتی ہے کہ بخشش نہ ہونے کے نتیجے میں انسان اپنے داغوں سے پاک نہیں ہوسکتا اور جو داغ ہیں جن کا وہاں رہنے کا حق نہیں ان کو لازماً جلانا ہوگا کیونکہ جو بخشش کے پانی سے اپنے داغوں کو نہیں دھوتا وہ داغ پھر جلائے جاتے ہیں اور مادی دنیا میں بھی یہی دستور ہے۔پس فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اسی حالت میں رہے تو ہمارا گویا کہ زبان حال سے تقاضا ہے کہ ہمارے داغوں کو جلا دے اور استغفار کا پانی جس داغ کو نہ دھو سکے اسے عذاب کی آگ ہی ہے جو جلا کر خاک کرتی ہے۔حضرت یونس کی دعا جو بعض صوفیاء کہتے ہیں کہ یہ کرنی نہیں چاہئے یہ تو بہت ہی گرم دعا ہے۔یہ جو صوفیاء کی بعض باتیں ہیں خاص ان کی دلچسپی کی ، وہ کہتے ہیں اتنی تیز دعا ہے اتنی گرم دعا ہے کہ آگ لگا دیتی ہے اس لئے اس سے بیچ کے ہی رہو اور وہ ویسی دعا ہے کہ اس کے بغیر بخشش کا تصور نہیں باندھا جا سکتا۔ایسی عظیم دعا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل سے نکلی اور بخشش ساتھ ہی ہو گئی۔انہوں نے جو ظلمات میں گھر کر ، اندھیروں میں پڑ کر جس طرح سے خدا تعالیٰ کی بخشش طلب کی ہے وہ یہ الفاظ ہیں لاَ إِلَهَ إِلَّا انْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّى كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبياء: 88) اے میرے