خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد 16 827 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء دعائیں کرنا کتنا وقت چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ فرما دیا ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا ہے۔عمر بھر کی نمازیں ہوں اور وقت جلد آ جاتا ہے ان دو باتوں کا کیا تعلق ہوا۔اصل میں عمر بھر کی وہ دعائیں جو بلانے کے لئے ہوتی ہیں ان میں اضطرار کی کمی کی وجہ سے وہ نمازیں گویا ایسی ہو جاتی ہیں کہ نہ خدا ان کو دیکھ رہا ہے نہ ان کو سن رہا ہے لیکن جب ان نمازوں میں اضطرار پیدا ہو جائے جس کا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے تو خدا تعالٰی محمد رسول اللہ اللہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ (البقرة: 187) جب واقعہ اس کے دل میں ہماری تلاش پیدا ہوتی ہے تو وہ لمحہ ایسا ہے کہ میں قریب ہوں۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ میں قریب ہوں۔براہ راست سائل کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے ایسا کہ اس کی تیزی بیچ میں کسی وسیلے کو رہنے نہیں دیتی۔پس یہ موقع ہے جو جلد آ جاتا ہے“ کا موقع ہے۔اب بتائیں جو شخص عارف باللہ نہ ہو جس نے ان تمام مضامین کو بہت گہرائی اور باریکیوں سے سمجھا نہ ہو اور اپنے دل پہ طاری نہ کیا ہو وہ یہ لکھ ہی نہیں سکتا۔ہر پڑھنے والا سمجھے گا کہ شاید کاتب کی غلطی سے جلد لکھا گیا ہے یا نہ بھی سمجھے تو بغیر سمجھے آگے گزر جائے گا۔تو جلد کا مضمون ہمیں بتا رہا ہے کہ ہماری دعا میں جو اضطرار خدا کے قریب کرتا ہے وہ دراصل جب تک اپنے معراج کو نہ پہنچے جیسا کہ ڈوبتے ہوئے کی مثال دی گئی ہے اور جب تک یہ نہ ہو کہ گویا وہ شخص اب غرق ہوا کہ ہوا اس وقت تک نماز کا معراج انسان کو نصیب نہیں ہو سکتا۔اس وقت تک خدا تعالیٰ تیزی کے ساتھ اس طرح آپ کی طرف نہیں بڑھتا جیسے اب اگر اس نے آپ کو نہ سنبھالا تو آپ گئے۔یہ وہ روحانی وجود کی ہمیشہ کی زندگی کا راز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہمیں سنایا گیا ہے۔فرماتے ہیں: ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے بھلا یہ بجرحقیقی نماز کے ممکن ہے۔حقیقی نماز کے بغیر کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گزرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے وہ کس امید پر اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم : 190،189)