خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد 16 826 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء تجربہ ہر مخلص احمدی کو بار ہا ہوا ہوگا۔یہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ سچا احمدی ہو یا کم سے کم کسی حد تک مخلص ہو اور خدا نے اس کو اپنے قرب کے نشان نہ دکھائے ہوں۔ہر کس و ناکس کو اللہ تعالٰی اپنے قرب کے نشان دکھا تا ہے تا کہ کچھ چکھے اور اس کی لذت پا کر پھر کچھ آگے بڑھنا شروع کرے اور اس راہ سلوک کے سفر اس کے لئے آسان ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے، التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے۔جب انسان التجا کا ہاتھ بڑھاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ جیسے ڈوبتا ہوا اپنا ہاتھ باہر نکال دیتا ہے تا کہ کوئی تو دیکھے کوئی تو اس کے دکھ کا مداوا کرے۔فرماتے ہیں: التجا کے ہاتھ بڑھا دیتا ہے اور دوسرا اس کی غرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے“۔یہ نماز کی بیقراریوں کا آخری نتیجہ ہے یعنی اللہ تعالی جو ایک دور کی ہستی تھی ایک غائب ہستی تھی وہ نماز کے ذریعے آپ کے قریب آنے لگتی ہے۔اتنا قریب آجاتی ہے کہ پھر آپ اس کی آوازیں سنے لگتے ہیں۔وہ سمیع ہے علیم ہے۔سنتا ہے اور جانتا ہے کہ آپ مشکل میں ہیں اور ان مشکلوں کو دور کر بھی دیتا ہے جیسا کہ پہلے بیان گزر چکا ہے لیکن صرف مشکلیں دور کرنا مقصد نہیں ہے۔مشکلیں دور کرنا ایک ذریعہ ہے اس کی پہچان کا اور نماز وہ ذریعہ بنتی ہے۔فرماتے ہیں اس کی غرض کو اچھی طرح سنتا ہے اور پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جوسنتا تھاوہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے“۔نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بسجو درہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب سے تسلی دیتا ہے“۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کا ایک ایک لفظ عین موقع پر چنا ہوا ہے اور وہ انسان جو نہیں سمجھتا وہ سمجھے گا یہ زائد لفظ ہے کیسے اس مضمون پر اطلاق پا رہا ہے سمجھ ہی نہیں آسکتی۔اب غور کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ساری عمر کا رونا پیٹنا، اس کی