خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 825 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 825

خطبات طاہر جلد 16 825 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء سمجھایا ایک عارف باللہ جس طرح مضمون کی گہرائی میں اتر کر باتیں کرتا ہے اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں سمجھاتے ہیں کہ نماز شروع کرنی ہو تو کرب کی حالت سے فائدہ اٹھاؤ۔اپنی بے چینیوں سے نماز کو حاصل کرو کہ وہ مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔اس لئے فائدہ اٹھاؤ کہ نماز تمہیں واقعہ نکالے گی ان مشکلات سے اور جب نکالے گی تو نماز کا ایک فائدہ آپ کے تجربے میں سے گزر جائے گا اور پھر بے وقوف ہی ہو گا جو کشتی سے اتر کر پھر شرک میں مبتلا ہو جائے جبکہ خدا نے اسے کشتی کی دعائیں سن کر بچالیا ہو۔تو نماز گویا ایک کشتی کی طرح بن جاتی ہے جو سخت کرب اور بے چینی کی حالت سے اٹھنے والی گریہ وزاری کے نتیجے میں آپ کو طوفانوں اور ہلاکت سے بچالیتی ہے لیکن پھر اس ذات کو نہ بھولیں، خواہ خشکی پر چلیں ، جس ذات نے آپ کو سمندر کی گہرائیوں سے نجات بخشی تھی۔یہ وہ تصور ہے ، یہ شکر ہے نماز کا جو آپ کو پھر نماز سے وابستہ کر دے گا اور آئندہ آپ کے لئے نمازیں پڑھنا آسان بھی ہو جائے گا اور دلچسپ بھی ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہمارا بار ہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے، ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کو حل اور آسان کر دیا ہوتا ہے۔اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنا تجربہ بیان فرمارہے ہیں۔اگر آپ کو بھی یہ تجربہ حاصل ہو جائے اور آپ کے دکھ آپ کی نماز کے ذریعے آپ کے مسائل ہی حل نہ کریں بلکہ اس ذات سے تعلق قائم کر دیں جو مسائل حل کرتی ہے تو نمازیں کتنا بڑا منفعت کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ آپ کو محض اپنی حاجات کے لئے نماز کی ضرورت پیش نہیں آتی ، سب دنیا کی حاجات کے لئے آپ کو نماز کی ضرورت پیش آتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی نمازیں جو اتنا طول پکڑ لیا کرتی تھیں ہرگز اس لئے نہیں کہ آپ کو اپنی نفسی ضرورتوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا پڑتا تھا ، جھکتے رہے،اس ذات کو پا بھی لیا مگر تمام کائنات کی ضرورتوں کے لئے جو آپ کے زمانے میں پیش آسکتی تھیں یا قیامت تک پیش آتی رہیں گی ان سب کے لئے آپ نمازوں میں خدا کی طرف جھکتے رہے۔اس کا یہ نمونہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کو خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوتا ہے اور یہ