خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد 16 77 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء ان آیات کے بعد وہ آیتیں جن کا میں نے ذکر کیا تھا جس میں تسبیح اور تحمید کے مضمون کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے مگر انہی چیزوں کے تعلق میں جو شعور نہیں رکھتیں ان میں سے ایک سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ہے: تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ (بنی اسرائیل: 45) حَلِيمًا غَفُوْرًا جو کچھ بھی سات آسمانوں میں اور زمین میں ہے وَمَنْ فِيْهِنَّ اور جو بھی اس میں بستے ہیں وہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو بھی ان میں بستے ہیں دونوں میں وہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں۔وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِم اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد نہ کرتی ہو ولكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ لیکن تم ان کی تشہی کو نہیں سمجھتے۔یہاں حمد کے سمجھنے کی نفی پھر بھی نہیں فرمائی گئی کیونکہ یہاں ہر چیز کو داخل کر لیا گیا ہے اور تسبیح کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی کہ تم انکی تسبیح کے انداز کو سمجھ نہیں سکتے۔إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا اللہ تعالیٰ بہت ہی بردبار ہے اور بخشش فرمانے والا ہے۔میں چونکہ بخشش کی طرف جلد سے جلد منتقل ہونا چاہتا ہوں اس لئے ان آیات کے تفصیلی حصے سر دست نظر انداز کر رہا ہوں۔پھر بجلیوں کے حوالے سے فرمایا وَ يُسبِّحُ الرَّعْدُ بِحَدِهِ وَالْمَلَكَةُ مِنْ خيفته (الرعد:14) کہ کڑکتی ہوئی بجلیاں خدا کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ کرتی ہیں اور فرشتے بھی من خیفَتِہ اس کے خوف سے۔خدا تعالیٰ کے رعب کے نتیجے میں فرشتے بھی ایسی حالت میں تسبیح اور حمد کر رہے ہوتے ہیں۔پس اب دیکھنا یہ ہے کہ اس رمضان میں تسبیح کے مضمون سے ہم کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تسبیح کا جہاں تک تعلق ہے اور انسانی زندگی سے جہاں تک تسبیح کا تعلق ہے قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ بخشش کے لئے تسبیح کا ہونا ضروری ہے۔جہاں بھی بخشش کا مضمون ہے وہاں تسبیح کا مضمون بیان ہوا ہے اور حمد کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔پس بخشش کے بغیر انسان خدا تعالیٰ کی صفات کے حسن سے واقف ہو ہی نہیں سکتا۔بغیر بخشش کے جس کا تسبیح سے تعلق ہے انسان اس بات کا اہل ہی نہیں بن سکتا کہ خدا تعالیٰ