خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد 16 76 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء نوع کی ہے کہ تمہیں سمجھ آنہیں سکتی۔کیونکہ یہ شعور کی ایسی باریک اور ابتدائی حالتیں ہیں جن تک انسان کا ذہن پہنچ ہی نہیں سکتا۔وہ اگر چہ شعور میں بہت آگے بڑھ گیا ہے لیکن اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ نیچے دیکھے تو اس کو اپنی ابتدا دکھائی ہی نہیں دیتی اس لئے وہ نہیں سمجھ سکتا کہ میں بھی ہر قدم شعور کی مختلف منازل سے گزرتا ہوا ، احساسات کی مختلف منازل سے گزرتا ہوا اس مقام تک پہنچا ہوں۔پس ان آیات میں یہ ایک سورہ جمعہ کی آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔ایک سورۃ الانبیاء کی آیت ہے اس میں فرمایا: فَفَهَّمْنْهَا سُلَيْمَنَ وَكُلًّا أَتَيْنَا حُكْمًا وَ عِلْمًا وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرِ وَكُنَّا (الانبياء 80) اور ہم نے ان کے ساتھ حضرت داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا۔يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔اس کی تفسیر میں جانے کا یہ موقع نہیں مگر یہ یاد رکھیں کہ یہاں حمد کا لفظ نہیں آیا صرف تسبیح کا ذکر کر کے اس مضمون کو ختم فرما دیا گیا۔ایک اور آیت اس مضمون کی سورۃ ص میں ملتی ہے۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ (ص: 19) ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو بھی مسخر کر دیا تھا جو شام کو بھی تسبیح کرتے تھے اور صبح بھی تسبیح کرتے تھے اور یہاں بھی حمد کا ذکر نہیں ہے۔پھر اگلی آیت ہے۔سورۃ نور سے لی گئی ہے۔أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ ضَفْتِ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ) ( النور : 42) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔وَالطَّيْرُ صفت اور صف بستہ پرندے بھی۔ہر ایک نے اپنی عبادت کا رنگ سیکھ لیا۔محل قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہ ہر ایک کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس نے کیسے خدا کی عبادت کرنی ہے وَتَسْبِيحَة اور کیسے اس کی تسبیح کرنی ہے۔وَاللهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں اس کا علم رکھتا ہے۔یعنی تسبیح زبانی ہو یا ایسی مخفی زبان میں ہو جو انسان سن نہ سکے مگر اللہ کا علم جانتا ہے۔اس کے لئے سماعت کی بھی ضرورت نہیں کسی رنگ میں وہ تسبیح کرتے ہیں اس کا علم باری تعالیٰ سے تعلق ہے۔