خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد 16 820 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء حائل نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔ایک ظاہری عقلی تقاضا ہے، ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے برعکس کچھ ہو۔پس خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنا اور ذکر الہی پر زور دینا یہ اس بظا ہر دور کے خدا کو آپ کے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی ہر نماز میں خواہ وہ فرض ہو یا نفل ہو یا جو بھی حیثیت رکھتی ہو الْحَمدُ لِلہ سے گزرے بغیر آپ کی نماز نہیں ہوسکتی اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ ایک ہی چیز کو بار بار دہراؤں۔حالانکہ نہیں جانتا کہ بار بار دہرانے کے باوجود بھی وہ نہیں سمجھ سکا۔ساری عمر رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ورد کرتا رہا لیکن ایک کوڑی بھی اس کے دل پر اثر نہ پڑا اور نہ وہ اس رب اور رحمن کو اپنے قریب کر سکا۔پس نماز وہ ہے جو صفات الہی پر غور کے نتیجے میں صفات الہی کو انسان کے اتنا قریب دکھانے لگتی ہے کہ نماز کی برکت سے آپ خدا تعالیٰ کی طرف حرکت کرنے لگتے ہیں۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ نماز کے ذریعے اللہ آپ کے قریب آنا شروع ہو جاتا ہے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نماز کے ذریعے گویا آپ کو ایک سواری میسر آ گئی ہے اس میں بیٹھ کر آپ خدا کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور مزید غور کریں تو دونوں باتیں بیک وقت سچی ہوں گی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کے قریب ایک بالشت بھر بڑھے گا خدا اس کی طرف گزوں آئے گا۔چل کے جائے گا تو اللہ دوڑتا ہوا اس کی طرف آئے گا۔پس بیک وقت فاصلے مٹنے لگتے ہیں۔ایک انسان آگے بڑھ رہا ہے تو وہ جس کی طرف بڑھ رہا ہے وہ اس کی طرف اور آگے بڑھ رہا ہے۔یہ اس لئے لازم ہے کہ انسان اپنا سفر خدا کی طرف اپنی طاقت سے پوری طرح طے کر ہی نہیں سکتا۔جب تک وہ بعید ہستی جس کے بعید ہونے کی کوئی انتہا بھی نہیں، وہ اپنی مخلوقات سے اتنی دور ہے کہ مخلوق کا اس کی کسی صفت میں بھی حقیقہ کوئی حصہ نہیں ہے یعنی شراکت کا کوئی حصہ نہیں۔حصہ تو ملتا ہے ورنہ مخلوق بن ہی نہیں سکتی۔ہر خالق اپنی مخلوق میں ایک حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کی مخلوق خالقیت کی صفات میں حصہ دار نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک عکس سا اس پر پڑتا ہے۔وہ حرکتیں تو کرتا ہے ایسی جیسی خالق نے کی ہوں لیکن اپنے آپ کو یا اپنے جیسی چیز کو بنانہیں سکتا تو وہ خالق کی صفات میں حصہ دار کیسے ہو گیا۔کوئی انسان ، انسان کو خود نہیں بنا سکتا مگر انہی صفات سے استفادہ کرتے ہوئے جو خدا نے انسان کو آگے انسان کی شکلیں بنانے کے لئے عطا فرمائی ہوئی ہیں۔پس خالق تو وہی ہے جس نے بنیادی طور پر انسان کی تصویر یں اور آگے