خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 821 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 821

خطبات طاہر جلد 16 821 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء بڑھانے کی صفات انسان کی تخلیق میں رکھ دی ہیں۔خالق وہی رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ آج کل جو مضمون چل رہا ہے کہ کس طرح انسانی گوشت کا ایک ذرہ لے کر اس کو خاص سائنسی انداز میں تربیت دیں، ایک حصے سے گزار کر دوسرے میں داخل کریں، ایک جانور کے رحم سے نکالیں دوسرے میں داخل کر دیں تو بالآخر کلونگ ہو جائے گی۔یعنی ممکن ہے کہ ایک بھیڑ بالکل اس بھیڑ کے مشابہ ہر چیز میں پیدا ہو جائے جس بھیڑ سے اس سفر کا آغاز شروع ہوا تھا جس کے جسم کا ایک ذرہ لیا گیا تھا اور عامۃ الناس میں لوگ سمجھتے ہیں کہ دیکھو انسان خالق ہو گیا، کہاں گئے دعوے کہ خدا کے سوا کوئی خالق نہیں۔لیکن یہ جھوٹے خالق ہیں۔یہ جب تک خالق کے پیدا کردہ ذرات کو چرائیں نہیں اور خالق ہی کی پیدا کردہ زندگی کی مشینوں سے استفادہ نہ کریں یہ کچھ کلوننگ نہیں کر سکتے۔وہ کلوننگ کا ذرہ ہی نہیں بنا سکتے جس سے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔یہ ناممکن ہے۔آپ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ شاید اگلے زمانوں میں ممکن ہو جائے تو ایسے لوگوں کو میں بتا تا ہوں کہ وہ زندگی کا ابتدائی ذرہ اتنی ناممکن چیز ہے کہ اس کو بنانا تو در کنار آج تک سائنس دان اس کو سمجھنے میں ہی ناکام رہے۔ہر کوشش کے بعد بالآخر یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ اگر یہ ذرہ یعنی جو پہلی زندگی کی اینٹ بنی ہے اتفاقات کی پیداوار ہو تو ان اتفاقات کے لئے ایک لامتناہی زمانہ چاہیئے ، اتنا لمبا زمانہ کہ عام انسان جو حساب نہ جانتا ہو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اتنا لمبازمانہ کہ ہماری ساری کائنات کا ایک ارب سال کا جو زندگی کا سفر ہے وہ اس کے مقابل پر ایسا ہی ہوگا جیسے کروڑوں میل کے مقابل پر کہیں ایک نقطہ ڈال دیا جائے۔اس نقطے کو کروڑوں میں سے جو نسبت ہے اتنا فاصلہ چاہئے زمانی لحاظ سے کہ اتفاقات کے نتیجے میں شاید یہ ذرہ پیدا ہو جائے۔اس کی باریکیاں لا انتہاء ہیں اور انسان ان کو سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔پس وہ ذرہ سمجھ ہی نہیں سکتا اس نے بنانا کیا ہے۔وہ ذرے چراتا ہے، اللہ کی تخلیق سے ان ذروں کو چراتا ہے اور اللہ ہی کی تخلیق کے دوسرے مظاہر میں ان کو داخل کر کے ان سے استفادہ کرتا ہے تو خالق تو نہیں ہے مگر خالق کا نقش اس پر موجود ہے۔یہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔خالق کا نقش نہ ہو تو تصویر بن ہی نہیں سکتی۔ہر تصویر کا ایک خالق ہے جس پر اس تصویر بنانے والے کے دماغ ، اس کے خیالات ،اس کے مقاصد جو اپنی زندگی میں رکھتا ہے ان کا نقش ہو سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ایسی تصویر میں بنا دی ہیں جن میں وہ منعکس تو ہے مگر اس جیسا نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔پس ایسے خدا کی طرف جب ہم