خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 817

خطبات طاہر جلد 16 817 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء کریں، اللہ کو کیا ضرورت ہے ہماری چاپلوسی کی اس کے سامنے کیوں سر جھکائیں، یہ اللہ کی انانیت ہے جس کے نتیجے میں وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں۔ان سب کا جواب اس میں آ گیا ہے۔دنیا میں تو تم چھوٹے چھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے پھرتے ہو، تمہارا تو شیوہ ہی عبادت ہے۔انسان تو عبادت کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔یا وہ جھوٹے معبودوں کی جھوٹی عبادت کرے گا یا اس کے لئے یہ امکان ہے کہ ایک سچے معبود کی سچی عبادت کرے۔کوئی ایک انسان آپ دنیا میں دکھائیں جو عبادت پر مجبور نہ ہو۔عبادت کا ایک معنی ہے غلامی۔کسی اعلیٰ ہستی سے نیچے ہونا اور اس کے سامنے سر جھکانا تا کہ اس سر جھکانے سے اس کو کوئی فائدہ مل جائے۔ساری دنیا میں تلاش کریں ایک بھی آپ کو ایسا انسان نہیں ملے گا جو عبادت نہ کرتا ہو سوائے پاگلوں کے۔پاگل بیچارے مجبور ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ عبادت ہوتی کیا ہے۔نقصان اٹھاتے پھرتے ہیں پھر بھی عبادت نہیں کرتے۔عبادت کرنے والے انسان ضرور کسی نہ کسی معبود کو اپنا رزاق سمجھتے ہیں، اپنی طاقت کا منبع سمجھتے ہیں، اپنے اموال کی حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اپنے اوپر رحم کرنے کے لئے ان کا وجودضروری سمجھتے ہیں کیونکہ بارہا انسان رحم کا محتاج ہوتا ہے اور پھر مالک یوم الدین سمجھنا تو بہت بڑی بات ہے۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کسی کو نہ بھی سمجھیں چھوٹا سا مالک بھی ہو تو اس کی عبادت کریں گے کیونکہ ملکیت سے آپ کو حصہ نہیں ملے گا اگر آپ اس کو مالک یقین نہیں کریں گے اور اگر مالک سے تعلق نہیں رکھیں گے تو اس کی ملکیت سے کیسے تعلق ہو گا۔اسی کے اندر بادشاہت آجاتی ہے، اسی کے اندر تمام دنیا کی سیاسی طاقتیں آجاتی ہیں جن کے اندر ملوکیت کی کچھ شان پائی جاتی ہے وہ حکومتوں کی طرف سے ان ملکوں کے مالک بنائے جاتے ہیں جو خود انہوں نے پیدا نہیں کئے وہ پہلے سے ہی وجود میں آچکے ہیں ، ایک نظام جاری ہو چکا ہے لیکن عارضی سی ملکیت ان کو ملکوں پر نصیب ہوتی ہے اور وہ مالک بن بیٹھتے ہیں۔جب وہ واقعہ مالک بن بیٹھیں تو ان کو ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے اور ڈکٹیٹر بھی آج آئے اور کل چلے گئے اور زندگی بھر رہیں بھی تو بالآخر انہوں نے رخصت ہونا ہے، ان کی ملکیت کا پول کھل جاتا ہے کہ وہ حقیقت میں مالک نہیں تھے۔تو اب بتائیے کہ نماز پڑھنے کی حکمت سورہ فاتحہ ہی سے واضح ہوئی کہ نہیں ہوئی۔سورۃ فاتحہ نے آغاز ہی سے بتا دیا کہ تم مجبور ہو عبادت پر۔اگر نہیں کرو گے تو تمہارا نقصان ہوگا اور رب العلمین، رحمن ، رحیم ، مالک کی عبادت چھوڑ کر جب کسی اور کی عبادت کرو گے تو