خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد 16 816 خطبہ جمعہ 7 نومبر 1997ء اس کے بعد الرَّحِیمِ ہے۔اب رحیم پر غور کر لیں وہ ذات جو اپنے رحم کو بار بارلے کر آتی ہے کبھی بھی اس کا رحم ہمیشہ کے لئے پیٹھ نہیں دکھاتا۔وہ ہمیشہ بار بار ایک دفعہ ظاہر ہو جانے کے بعد پھر آتا ، پھر آتا ہے ، پھر آتا ہے اور انسان جانتا ہے کہ اس کے لئے ایسے مواقع کا بار بار پیدا ہونا ضروری ہے جن سے وہ استفادہ کر سکے۔اگر پہلے بھی استفادہ نہ بھی کیا ہو تو پھر اگلے سال وہی موسم دوبارہ آجائیں گے، وہی رحمانیت کے جلوے دوبارہ نظر آئیں اور ایک انسان جس نے اپنی عمر پہلے ضائع کر دی ہو وہ کبھی تو رحمانیت کے بار بار آنے والے جلوؤں سے فائدہ اٹھا سکے، یہ رحیمیت کا مضمون ہے۔اب بتائیں کون ہے جو تعلق جوڑے رحیمیت سے اور سمجھے کہ بڑا میں نے احسان کیا ہے اور یا تعلق ہی نہ جوڑے۔دونوں صورتیں پاگل پن کا نشان ہیں۔دونوں صورتوں میں نیکی کا کوئی سوال ہی نہیں، احسان کا کوئی سوال نہیں یعنی تعلق جوڑنے والے کی طرف سے جس کے ساتھ تعلق جوڑا جارہا ہے اس پر ایک ذرہ بھی احسان نہیں ، نہ یہ نیکی ہے کہ آپ اس سے تعلق باندھیں۔پھر آپ اس کو کہتے ہیں مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہر کوشش، ہر محنت، ہر چیز کا آخری نتیجہ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔اب کون پاگل ہے جو اس سے منہ موڑ لے گا۔اب تک یہ جو گفتگو میں کر رہا ہوں اس میں ایک گہری منطقی دلیل موجود ہے کہ آپ جب رَبِّ الْعَلَمِينَ ، رحمن رحیم یا مالک سے تعلق جوڑنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں تو اس میں ایک ذرہ بھی اس پر احسان نہیں ، تمام تر احسان آپ پر ہے۔اب یہ جو چار صفات ہیں ان کا بندوں سے تعلق کیسے جوڑا جاتا ہے۔نماز میں اچانک بے اختیار آپ کہہ اٹھتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ اے وہ ذات جو رب ہے، جو رحمن ہے، جو رحیم ہے، جو مالک ہے، تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں۔اب بتائیں وہ پاگل جو کہتے ہیں کہ عبادت کیوں کرتے ہو، کیا ضرورت ہے خدا کو تمہاری عبادت کروانے کی ، کیا ان کا جواب ان باتوں میں نہیں ہے۔کیا آپ کے عبادت کرنے کے نتیجہ میں ایک ذرہ بھی احسان ہو گا رب ، رحمن ، رحیم اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ پر۔عبادت تو ان صفات کا ایک لازمی نتیجہ ہے جو آپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے ، آپ پر احسان کرنے کے لئے پیدا ہو سکتا ہے۔اگر آپ اس کی عبادت کریں۔پس سب سے پہلے تو سارے دہر یہ یا دوسرے مذاہب کے لوگ جو یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ ہم عبادت کیوں