خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 815 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 815

خطبات طاہر جلد 16 815 خطبہ جمعہ 7 / نومبر 1997ء کہ گویا میں نے اس پر احسان کیا ہے۔واقعہ پاگل ہوگا جو یہ خیال کرے گا کیونکہ رحمن سے تعلق جوڑنا ایک فطری تقاضا ہے۔ناممکن ہے کہ دل رحمن کی طرف لپکے نہیں اور کسی رحمن کی طرف دوڑتے ہوئے اس کے حضور اپنا سر نہ جھکا دے لیکن دنیا کے رحمن کس حد تک رحمن ہوتے ہیں، بالکل معمولی رحمن اور ان کی رحمانیت کا اعتبار بھی کوئی نہیں کیونکہ حالات بدل جائیں تو وہ بھی ساتھ ہی بدل جاتے ہیں اور رحمن وہ نہیں ہیں جن کا ساری کائنات سے تعلق ہے۔کائنات کا تعلق اس رحمن سے ہے جو اللہ تعالیٰ ہے۔پس اس کی رحمانیت کا ئنات میں ہونے والے واقعات سے منفی طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔رحمن تو ہیں ماں بھی رحمن ہوتے ہیں، خصوصیت کے ساتھ رحمی تعلقات کے لئے رحمانیت کا لفظ بولا جا سکتا ہے۔اگر ایک قومی آفت آ پڑے تو اس کی رحمانیت کیا کام کرے گی۔اس کی آنکھوں کے سامنے بچے آگ میں جل جائیں گے وہ کچھ نہیں کر سکے گی۔بعض گھروں میں آگ لگ جاتی ہے بچے اندر پھنس جاتے ہیں باہر مائیں چیختی چلاتی رہ جاتی ہیں لیکن ان کی رحمانیت کا کوئی اثر بھی آگ کو پار کر کے بچوں کو بچانے کا موجب نہیں ہو سکتا۔یہ ایک بہت ہی معمولی ادنی سی مثال ہے مگر رحمانیت یعنی اللہ کی رحمانیت پر آپ جتنا بھی غور کریں گے آپ کو دنیا کی رحمانیت کے نظارے بالکل ایک معمولی حقیر سے واقعات دکھائی دیں گے جن کے اندر ہمیشہ آپ کا ساتھ دینے اور آپ کو سنبھالنے اور کائنات کے اثرات سے آپ کو بچانے اور کائنات کے فوائد سے آپ کو تمتع کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔تو جب آپ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے بعد رحمن کا نام سنتے ہیں تو اس سے جو تعلق پیدا ہوتا ہے وہ آپ کی اپنی ضرورت ہے۔اس کے لئے جو دل اچھلتا ہے تو ایسا ہے جیسے بچہ دودھ کے لئے بے تاب ہو کر اس کا دل ماں کے لئے اچھلتا ہے اور ماں کا دل جواباً اس کے لئے اچھلتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ جو تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں اگر آپ رحمانیت پر غور کریں تو یہ ایک ایسا بے اختیار تعلق ہے جس کے بغیر آپ کا گزارہ ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا کے رحمانوں کے ساتھ تو آپ دوڑ دوڑ کے تعلق قائم کریں جو عارضی اور حقیقت میں بے معنی ہیں لیکن رحمن وہ خدا جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے، جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اس کے لئے دل میں تعلق کی خواہش پیدا نہ ہو تو یہ بیوقوفی ہے یا بے وقوفی بھی نہیں پاگل پن ہے۔کوئی معقول آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ رحمانیت کے جلوے دیکھے اور اس کا دل اس کی طرف نہ لپکے۔