خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد 16 75 خطبہ جمعہ 31 جنوری 1997ء ہے، آپ نے پا کی اختیار کر لی لیکن یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جھوٹ سے کلیہ تو بہ اختیار کر لی ہو اور سچے نہ بنے ہوں۔ پس اگر چہ پہلا حصہ منفی ہے ایک برائی سے پاکی کا مضمون ہے مگر جب اس کی نفی کلیہ ہو ئے تو بعد میں حمد کا مضمون از خود لازماً جاری ہوگا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص جھوٹ سے کلیہ پاک اور صاف ہو اور کہیں سچا نہیں ہے۔ اسی طرح ظلم سے خالی ہونا، بدبختی سے جو دل کی شقاوت کہلاتی ہے عاری ہونا۔ یہ اپنی ذات میں اس حالت میں رہ ہی نہیں سکتا جب تک نرمی اور پیار اور جائے تو شفقت دل میں داخل نہ ہو جائے ۔ پس یہ کہنا کہ وہ ظلم سے کلیہ پاک ہے لیکن رحم دل نہیں ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ تو آغاز بہر حال سبحان کے مضمون سے ہوتا ہے اور حمد کا مضمون اس کے اوپر قائم ہوتا ہے۔ پس صلى الله ۔ عروسه سورہ فاتحہ کا آغاز حمد سے ہونے کا دراصل یہ مطلب ہے ہے کہ کہ حضرت حضر اقدس محمد مصطفی علی کا مقام مقام تسبیح کے تمام مراحل طے کر گیا ہے اور اس بلند مقام پر آپ کا قدم ہے جس کا حمد سے تعلق ہے اور اس پہلو سے امت محمدیہ کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ مناصب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مگر ہر نماز تسبیح سے شروع ہوتی ہے اور حمد میں داخل ہونے سے پہلے جو نماز میں داخل ہونے کا رستہ ہے اس کا گیٹ سبحان الله سے قائم کیا گیا ہے۔ سبحانك اللهم وبحمدک اے اللہ تو پاک ہے و بحمدک اور تیری پاکی کا مطلب ہے اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ تو یہ وہ پہلو ہیں جن کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے نتیجے میں استغفار کا مضمون سمجھ آئے گا۔ اور چونکہ اس پچھلے جمعہ کا دراصل مقصد آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کی وضاحت کرنا تھا جس میں فرمایا کہ وہ بڑا محروم اور بد نصیب انسان ہے جو رمضان پا جائے ، رمضان گزر جائے اور وہ بخشش سے خالی رہا ہو، بغیر بخشش کے اس کا رمضان گویا خالی گزر گیا۔ پس رمضان کا مہینہ بخشش سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور بخشش کا مضمون پہلے تسبیح سے تعلق رکھتا ہے پھر حمد میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت میں قرآن کریم کی بعض آیات کے حوالے سے آپ کے سامنے کروں گا۔ پہلے تو جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا اکثر قرآن کریم کی آیات میں جہاں ذی شعور چیزوں کا ذکر نہیں ہے، ان چیزوں کا ذکر نہیں ہے جو ہمارے نقطہ نگاہ سے شعور رکھتی ہیں ان میں تسبیح تک بات ٹھہرا دی جاتی ہے اور حمد کی بات لازما نہیں کی جاتی ۔ مگر وہ ایسی آیات بھی ہیں جہاں بظاہر بغیر شعور رکھنے والی چیزیں ہیں مگر ان ساتھ حمد کا مضمون بھی بیان فرمایا گیا ہے اور مضمون کو یوں کھول دیا کہ ان کی تسبیح اور ان کی حمد اس کے