خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 797 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 797

خطبات طاہر جلد 16 797 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) اس سے خرچ کرتے ہیں جو ہم انہیں عطا کرتے ہیں۔تو اب اس پر جو قرض دیا جائے ، جو پیش کیا جائے اس پر شرط نہیں لگ سکتی۔جان بھی دے دو تو اسی کی دی ہوئی ہے۔پس قرضہ حسنہ کے سوا کچھ ہو نہیں سکتا۔جتنا اس نے دیا اس میں سے کچھ مانگا اگر وہ تم دے دو تو اس کے لطف و احسان کے متمنی تو ہو سکتے ہو لیکن شرط کوئی نہیں لگ سکتی۔جو دیا محض حق کے طور پر دیا حق ادا کرنے کی کوشش کے طور پر دیا۔روپیہ جو آپ کی طرف سے خدا کی سمت میں روانہ ہوتا ہے، اس کی روانگی کا انداز بیان فرمایا گیا ہے، آپ کی طرف سے روپیہ خدا کی سمت اس طرح روانہ ہو کہ کوئی اس میں شرط نہ ہو، صرف ایک تمنا ہو کہ جس نے اتنا دیا ہے اسی کو کچھ ہم پیش کر دیں اور وہ قبول فرمالے۔یہ قرضہ حسنہ ہے۔اور حضرت مصلح موعود نے ”حسن لفظ سے ایک اور معنی بھی لئے ہیں۔حسن اچھی چیز کو کہتے ہیں۔فرمایا اپنے مال میں سے اچھا حصہ ہے وہ کاٹ کے دو۔یہ معنی بھی بہت خوب ہیں کیونکہ قرآن کریم دوسری جگہ خدا کے حضور پیش کرنے والے روپے کے متعلق واضح طور پر فرمارہا ہے کہ وہ بہترین ہونا چاہئے ، جب تک تمہارے مال کا بہترین حصہ نہ ہو وہ قبول نہیں کر سکتا۔پس جب بھی تم قرضہ حسنہ خدا کے حضور پیش کر و حسنہ تب بنے گا جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر صغیر میں لکھا ہے جب تمہارے مال کا وہ بہترین حصہ ہو گا۔اس صورت میں محض روپیہ پیش نظر نہیں رہنا چاہئے کہ روپیہ تو ہر انسان کا بہترین حصہ ہی ہوتا ہے، اس کے مال کی ایسی شکل ہے جسے جب چاہیں جس طرح چاہیں بدل لیں۔تو قرضہ حسنہ کے اندر اور بھی بہت سی باتیں داخل ہو جائیں گی یعنی محض خدا کی خاطر چند روپے پیش کرنا پیش نظر نہ رہے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں سے بہترین حصہ اس کے حضور پیش کر دو۔یہ قرضہ حسنہ کی وسیع تعریف بن جاتی ہے۔مراد یہ ہے کہ اس دماغ کے بہترین استعمال کو خدا کی خاطر رکھو۔اب یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر اس کو اپنی زندگی پر آپ پھیلا کر دیکھیں تو بہت وسیع ہو جائے گی۔انسان اکثر اپنے دماغ کے بہترین حصے کو اپنے کاموں کے لئے بچا کر رکھتا ہے اور تھکے ہوئے ذہن کے کچھ حصے کو خدا کی خاطر دین کے کاموں میں پیش کر دیا کرتا ہے یہ قرضہ حسنہ نہیں ہے۔قرضہ حسنہ یہ ہے کہ دماغ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو جو کچھ بھی تم ان سے حاصل کر سکتے ہو پہلے خدا کے دین کے حضور پیش کر دو اور پھر جو تمہاری صلاحیتیں ہیں اللہ ان کو جلاء بخشے گا۔جو بچی