خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 796
خطبات طاہر جلد 16 796 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء تعریف ابھی اور آنے والی ہے۔جب اس کو آپ پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے انعامات کا جو اللہ کی خاطر خرچ کرنے سے شروع ہو جاتا ہے۔إنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يَضْحِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ خرج کرو جتنا چاہتے ہو۔اس کی ایک فلاح تو تم فوراً اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور تمہارے لئے تمہارا اپنا روپیہ بہت بہتر ثابت ہوگا اور تمہیں اس کے مفید اخراجات کا علم ہوگا لیکن صرف یہیں بات ختم نہیں ہوگی اِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يَضْعِفُهُ لَكُمُ اگر تم اللہ کوقرضہ حسنہ دو گے تو وہ تمہارے لئے اس کو بڑھائے گا اور اس کے علاوہ وَيَغْفِرْ لَكُم وہ بخشش بھی ساتھ ہی فرما دے گا۔اب گناہوں سے بچنے کے لئے بخشش ضروری ہے۔اگر پہلے گناہوں کی بخشش نہ ہو تو آئندہ گناہوں سے بچنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پس قرآن کریم جس مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ایسے لطیف انداز میں آگے بڑھاتا ہے کہ دل و دماغ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔اللہ کو قرضہ دو اس کا پہلے بھی ایک مفہوم بیان کر چکا ہوں وہ ایسا اہم ہے کہ اسے پھر بیان کرنا ضروری ہے تا وقتا فوقتا جماعت کو یاد دہانی ہوتی رہے۔قرضہ حسنہ جب انسان دیتا ہے اگر اس کے مقابل پر زیادہ کی توقع نہ ہو تو پھر قرضہ حسنہ بنتا ہے۔جس کو بھی آپ قرضہ حسنہ دیتے ہیں وہ قرضہ حسنہ کہلا ہی نہیں سکتا اگر اس قرضے کے مقابل پر زیادہ کی توقع رکھی جائے۔جہاں زیادہ کی توقع ہوئی وہاں قرضہ حسنہ ختم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم جو کچھ تمہیں دیں گے اپنی طرف سے دیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ تمہارے نفس میں حرص نہ ہو کہ یہ دینے سے مجھے کچھ زیادہ ملے گا۔اگر اس غرض سے دو کہ خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کر رہے ہو ایسا قرضہ حسنہ جیسے انسان اپنے عزیزوں کو دیتا ہے اور اس میں ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے کہ جب توفیق ہوگی جتنی توفیق ہوگی واپس کر دینا لیکن قربانی ہوتی ہے حرص نہیں ہوتی۔جب بھی کوئی انسان کسی کو روپیہ دے تو لازم ہے کہ وہ جانتا ہے کہ میرے روپے کی قیمت گھٹنی شروع ہوگئی ہے وقت کے ساتھ ساتھ وہ کم ہوتا چلا جائے گا۔جانتا ہے کہ اگر میں اسے کسی اور مصرف پر لگاتا ، تجارت میں استعمال کرتا تو اس روپے نے بڑھ جانا تھا تو قرضہ حسنہ دینے والا ہمیشہ ایک قربانی کی روح کے ساتھ قرضہ حسنہ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تمہیں اسی نیت سے دینا چاہئے کیونکہ خدا کو قرضہ حسنہ کے سوا اور دے کیا سکتے ہو۔جس نے تمہیں سب کچھ خود دیا ہے۔