خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 2

خطبات طاہر جلد 16 2 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء کھاتے بنائے گئے؟ جن کے بعد انسان کہ سکتا ہے کہ میں نے منافع میں سال بسر کیا ہے، نقصان میں نہیں کیا ہے اس طرف تو کوئی توجہ کسی کی نہیں جاتی۔اب جو بارہ بجے کی گھنٹی بجائے گی یعنی وہ جو Big Bang ہے اس نے بارہ بجائے تو اس وقت اس قدرا ایک وحشیانہ حالت اس قوم پر طاری تھی کہ شراب کے نشے میں دھت ہوئے ہوئے ہر قسم کی ان اخلاقی پابندیوں سے بھی آزاد ہو گئے جو بے اخلاق دنیا میں بھی کسی حد تک دیکھی جاتی ہیں۔مثلاً ایک ایسی دنیا جہاں جنسی بے راہ روی بے محابا جاری ہو چکی ہو وہاں بھی کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ کسی چلتی ہوئی لڑکی کو بے وجہ ہاتھ نہیں لگا نا مگر بارہ بجے جو ایک سال کے دوسرے سال میں تبدیل ہونے کا سنگم ہے اس وقت ہر اس چیز کی اجازت ہو جاتی ہے اور بے دھڑک وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا خوشی کا اظہار ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ سال کے بدلنے پر اگر کچھ ناچتا ہے تو وحشت ناچتی ہے اور اسی کا نام اظہار مسرت ہے، خوشی کا اظہار اور اس کا گزرے ہوئے سال سے کوئی بھی تعلق نہیں۔آنے والے سال کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔پس جہاں تک مومن کا تعلق ہے وہ اپنے گزرے ہوئے سال اور آنے والے سال کو ایک مسلسل جاری پانی کی طرح دیکھتا ہے جو ہر لمحہ آگے بڑھ رہا ہے اور جو سنگم منائے جاتے ہیں یہ اس قسم کا ہی ہے جیسے اچانک کوئی آبشار آ جائے یا کوئی پل آجائے جس کے نیچے سے پانی گزرے یا ارد گرد کا منظر بدل جائے لیکن پانی کی رفتار، اس کا ہمیشہ آگے بڑھتے چلے جانا، ایک مقصد کی طرف اشارہ کرتا ہے اور زندگی کو بھی انسان جب مختلف وقت کے پیمانوں میں دیکھتا ہے تو یہ تو سمجھتا ہے کہ پیمانہ کچھ بدلا ہوا دکھائی دے رہا ہے، کچھ اردگرد کا ماحول بدلا ہے، کچھ رفتار ڈھلوان کی وجہ سے بدلی یا چڑھائی آنے کے نتیجے میں روکیں پیدا ہوئیں غرضیکہ ایک رواں پانی کی طرح ایک زندگی کی مثال دیکھی جاسکتی ہے اور اس تعلق میں جو سوچنے کی باتیں ہیں وہ وہی ہیں جو قرآن کریم نے ایک آیت میں بیان فرما دیں جو آنحضرت سے تعلق رکھتی ہیں جو یہ ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولى (الضحی :6) سب زندگیاں گزررہی ہیں، رواں دواں ہیں۔کوئی بھی زندگی ساکت اور جامد ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ سکوت اور جمود موت کا نام ہے۔پس ہر چیز حرکت کر رہی ہے، ہر چیز آگے بڑھ رہی ہے مگر اے محمد رسول اللہ اللہ تیری زندگی اس طرح بڑھ رہی ہے کہ ہر آنے والا محہ گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہے اور بہتر ہوتا چلا جارہا ہے۔پس یہ وہ پیمانہ ہے جسے ہم پیمانہ صفات کہہ سکتے ہیں اور انسان اسی پیمانے سے خدا تعالیٰ کی ذات